بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

خاتون کو شرمندگی سے بچانے کے لئے عمر بھر بہرے بنے رہے

datetime 15  جنوری‬‮  2019 |

امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ اکابر اولیاء اللہ میں سے حضرت حاتم اصم رحمۃ اللہ علیہ نام کے ایک بزرگ گزرے ہیں، ’’اصم‘‘ بہرے کو کہتے ہیں یعنی جو سن نہیں سکتے۔ ان کا نام حاتم تھا اور اصم ان کا لقب یعنی بہرا۔ درحقیقت آپ بہرے نہیں تھے مگر لقب ’’اصم‘‘ اپنے نام کے ساتھ لگا لیا تھا۔ یہ لقب اختیار کرنے کی وجہ بڑی دلچسپ ہے جس سے حضرت حاتم کا اعلی اخلاق ظاہر ہوتا ہے۔

ایک خاتون حضرت حاتم سے کوئی مسئلہ دریافت کرنے کے لیے آئی، وہ آپ کے پاس بیٹھ کر مسئلہ دریافت کر رہی تھی کہ اچانک اس خاتون کے پیٹ میں ہوا کا بوجھ ہوا اور ہوا آواز کے ساتھ خارج ہو گئی۔ وہ خاتون اپنی اس حرکت پر شرمسار ہوئی اور اسے اپنی یہ حرکت بڑی ناگوار گزری کہ حضرت حاتم رحمۃ اللہ علیہ کیا سوچیں گے۔ حضرت حاتم نہیں چاہتے تھے کہ اس خاتون کو کوئی شرمساری یا شرمندگی ہو اور اس کی طبیعت پر بوجھ ہو لہذا آپ نے اس خاتون کی شرمساری و شرمندگی کو ختم کرنے کے لئے اپنے کان اس کی طرف کیے اور کانوں کی طرف اشارہ کر کے کہا ذرا اونچی آواز میں بات کرو، جب یہ کہا تو اس خاتون کو حوصلہ ہو گیا اور وہ سمجھی کہ یہ بہرے ہیں اور بہرے ہونے کی وجہ سے انہوں نے آواز نہیں سنی اور میں ان کے سامنے شرمندگی سے بچ گئی۔ پس اسکی دلجوئی اور حوصلہ افزائی کے لیے، اس کو شرمندگی اور ندامت سے بچانے کے لئے اور اس کے اس ظاہری عیب پر پردہ ڈالنے کے لیے آپ نے خود کو بہرہ ظاہر کیا۔یہیں پر بس نہیں کیا۔ بلکہ جب تک وہ خاتون زندہ رہی تب تک ہر شخص سے حضرت حاتم جب بات کرتے تو کان آگے کر کے کہتے ذرا اونچا بولیں یعنی بہرے ہی بنے رہے تاکہ جس ذریعے سے بھی اس خاتون تک خبر پہنچے تو یہی خبر پہنچے کہ وہ بہرے ہیں کہیں یہ اطلاع نہ پہنچے کہ وہ صحیح سن سکتے ہیں اور اس دن انہوں نے میری شرمساری کو چھپانے کے لیے ایسا عمل کیا۔

حقیقت میں بہرے نہیں ہیں، اس سے وہ شرمندگی محسوس کرے گی۔ پس ایک خاتون کو شرمساری و شرمندگی سے بچانے کے لئے حضرت حاتم عمر بھر بہرے بنے رہے اور اپنا لقب ’’اصم‘‘ اختیار کیا اسی بنا پر انہیں حاتم اصم کہتے ہیں۔



کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…