امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ اکابر اولیاء اللہ میں سے حضرت حاتم اصم رحمۃ اللہ علیہ نام کے ایک بزرگ گزرے ہیں، ’’اصم‘‘ بہرے کو کہتے ہیں یعنی جو سن نہیں سکتے۔ ان کا نام حاتم تھا اور اصم ان کا لقب یعنی بہرا۔ درحقیقت آپ بہرے نہیں تھے مگر لقب ’’اصم‘‘ اپنے نام کے ساتھ لگا لیا تھا۔ یہ لقب اختیار کرنے کی وجہ بڑی دلچسپ ہے جس سے حضرت حاتم کا اعلی اخلاق ظاہر ہوتا ہے۔
ایک خاتون حضرت حاتم سے کوئی مسئلہ دریافت کرنے کے لیے آئی، وہ آپ کے پاس بیٹھ کر مسئلہ دریافت کر رہی تھی کہ اچانک اس خاتون کے پیٹ میں ہوا کا بوجھ ہوا اور ہوا آواز کے ساتھ خارج ہو گئی۔ وہ خاتون اپنی اس حرکت پر شرمسار ہوئی اور اسے اپنی یہ حرکت بڑی ناگوار گزری کہ حضرت حاتم رحمۃ اللہ علیہ کیا سوچیں گے۔ حضرت حاتم نہیں چاہتے تھے کہ اس خاتون کو کوئی شرمساری یا شرمندگی ہو اور اس کی طبیعت پر بوجھ ہو لہذا آپ نے اس خاتون کی شرمساری و شرمندگی کو ختم کرنے کے لئے اپنے کان اس کی طرف کیے اور کانوں کی طرف اشارہ کر کے کہا ذرا اونچی آواز میں بات کرو، جب یہ کہا تو اس خاتون کو حوصلہ ہو گیا اور وہ سمجھی کہ یہ بہرے ہیں اور بہرے ہونے کی وجہ سے انہوں نے آواز نہیں سنی اور میں ان کے سامنے شرمندگی سے بچ گئی۔ پس اسکی دلجوئی اور حوصلہ افزائی کے لیے، اس کو شرمندگی اور ندامت سے بچانے کے لئے اور اس کے اس ظاہری عیب پر پردہ ڈالنے کے لیے آپ نے خود کو بہرہ ظاہر کیا۔یہیں پر بس نہیں کیا۔ بلکہ جب تک وہ خاتون زندہ رہی تب تک ہر شخص سے حضرت حاتم جب بات کرتے تو کان آگے کر کے کہتے ذرا اونچا بولیں یعنی بہرے ہی بنے رہے تاکہ جس ذریعے سے بھی اس خاتون تک خبر پہنچے تو یہی خبر پہنچے کہ وہ بہرے ہیں کہیں یہ اطلاع نہ پہنچے کہ وہ صحیح سن سکتے ہیں اور اس دن انہوں نے میری شرمساری کو چھپانے کے لیے ایسا عمل کیا۔
حقیقت میں بہرے نہیں ہیں، اس سے وہ شرمندگی محسوس کرے گی۔ پس ایک خاتون کو شرمساری و شرمندگی سے بچانے کے لئے حضرت حاتم عمر بھر بہرے بنے رہے اور اپنا لقب ’’اصم‘‘ اختیار کیا اسی بنا پر انہیں حاتم اصم کہتے ہیں۔





































