اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

گھر کو ٹھنڈا کرنے کیلئے اب بجلی ضائع کرنے کی ضرورت نہیں ، بس گھر میں ایک میز لے آئیں، حیرت انگیز زایجاد منظر عام پر

datetime 8  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان جیسے ممالک میں گرمی کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے اور ائیرکنڈیشنر کا استعمال بڑھ جاتا ہے جو بجلی کے بلوں میں بھاری اضافے کا سبب بنتا ہے مگر اب ایک ایجاد یہ مسئلہ حل کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔اور وہ ہے بظاہر بالکل عام نظر آنے والی میز۔جی ہاں میز فرنیچر کا وہ حصہ ہے جو صدیوں سے لگ بھگ ایک ہی شکل میں تیار ہورہا ہے

مگر ایک فرنچ ڈیزائنر نے اسے بغیر بجلی کے استعمال کے ایک اے سی جیسی ڈیوائس میں بدل دیا ہے۔پیرس سے تعلق رکھنے والے صنعتی ڈیزائنر جین سبسٹین لارینج نے ایک انجنیئر رافیل مینارڈ کے ساتھ مل کر زیرو انرجی فرنیچر ٹیبل (زی ای ایف) تیار کی ہے جو کسی بھی کمرے کا درجہ حرارت کنٹرول کرتی ہے۔زی ای ایف نامی یہ میز دیکھنے میں تو دیگر میزوں جیسی ہی ہے مگر اس کی خاصیت اے سی سے نجات دلا کر بجلی کے خرچے میں 60 فیصد تک کمی لانا ہے۔جین سبسٹین نے ایک انٹرویو کے دوان بتایا کہ بلوط سے تیار کردہ اس میز کے ذریعے توانائی کے مسئلے پر قابو پایا جاسکتا ہے۔اس میز کے نیچے ایسے میٹریلز کو لگایا گیا ہے جو کمرے کا درجہ حرارت 71 ڈگری پر پہنچنے کے بعد نرم ہوکر اضافی حرارت کو اپنے اندر جذب کرلیتے ہیں اور پھر اسے المونیم کی مدد سے خارج کرکے کمرے کے ٹمپریچر میں نمایاں تبدیلی لے آتے ہیں۔آسان الفاظ میں یہ میز ایک تھرمل اسفنج کا کام کرتی ہے جو حرارت کو جذب کرکے اس وقت خارج کرتی ہے جب کمرہ مناسب حد تک ٹھنڈا ہوجائے۔اور ہاں یہ سردیوں میں کمرہ گرم کرنے کا کام بھی کرسکتی ہے۔جیسے اسے تیار کرنے والوں کا دعویٰ ہے کہ یہ ہیٹنگ ضروریات کو 60 فیصد تک جبکہ ٹھنڈک کی طلب 30 فیصد تک کم کرسکتی ہے اور صارفین کا توانائی پر ہونے والا بڑا خرچہ بچ سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…