جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

دنیا میں سب سے کمزور سمجھا جانے والا مگر سب سے مہنگا پاسپورٹ کس ملک کا ہے ؟  حیرت کے شدید جھٹکے کیلئے تیار ہو جائیں

datetime 3  اپریل‬‮  2017 |

دمشق(این این آئی)شام کی پارلیمان نے پاسپورٹ کے اجراء ،تجدید اور سفری دستاویزات کے حصول کے لیے قونصلر فیس میں اضافے کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد اب شامی پاسپورٹ دنیا میں مہنگا ترین بن گیا ہے۔شامی عرب خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مجوزہ قانون کی دفعہ نمبرایک میں کہا گیا ہے کہ پاسپورٹ کے اجراء یا تجدید اور شامیوں کے لیے سفری دستاویزات کی قونصلر فیس 800 ڈالرز ہو گی۔

ماضی میں ان سفری خدمات اور پاسپورٹ کے اجراء کے لیے قونصلر فیس 400 ڈالرز لی جاتی تھی۔ گذشتہ سال ورلڈ اٹلس کی جاری کردہ درجہ بندی کے مطابق ایک شامی پاسپورٹ کے اجراء کی لاگت دنیا میں سب سے زیادہ آتی تھی۔اس کے بعد ترکی کا پاسپورٹ سب سے مہنگا تھا اور اس کی لاگت 250 ڈالرز تھی۔ آسٹریلیا کی سفری دستاویزات تیسرے نمبر پر تھیں اور ان کی لاگت 200 ڈالرز کے لگ بھگ تھی۔چوتھے نمبر پر سوئٹزرلینڈ اور میکسیکو کے پاسپورٹس تھے اور ان کی لاگت قریباً 160 ڈالرز تھی۔تعجب خیز امر یہ ہے کہ شام میں گذشتہ چھے سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں شامی پاسپورٹ دنیا میں کمزور ترین پاسپورٹس میں شامل ہوچکا ہے اور جو ممالک اس پاسپورٹ کے حاملین کو اپنے ہاں بغیر ویزا داخلے کی اجازت دیتے ہیں،ان کی تعداد بہت تھوڑی ہے مگر ان حقائق کے باوجود صدر بشارالاسد کی پارلیمان نے پاسپورٹ اور سفری دستاویزات کی فیس میں دْگنا اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ہینلے اور پارٹنرز کی گذشتہ سال کی درجہ بندی کے مطابق شامی پاسپورٹ اپنی مضبوطی کے اعتبار سے دنیا کے 104 پاسپورٹس میں سے 101 ویں نمبر پر تھا۔اس کے بعد بالترتیب پاکستان ،عراق اور افغانستان کا نمبر آتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…