پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

اسسٹنٹ سب انسپکٹر نے خود کو گولی مار کر خود کشی کرلی

datetime 11  مارچ‬‮  2017 |

چکوال(آن لائن)چکوال پولیس کے ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) نے بظاہر دفتر میں پیش آنے والے مسائل کے باعث اپنی سرکاری کلاشنکوف سے گولی مار کر خودکشی کرلی۔اپنے مختصر نوٹ میں مذکورہ اے ایس آئی نے لکھا،میری کسی کے ساتھ دشمنی نہیں ہے، لیکن کچھ دفتری مسائل نے مجھے یہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کیا، مجھے نہیں سمجھ آیا کہ میں کس طرح اپنی ڈیوٹی سرانجام دوں، میرے ساتھیوں اور اہلخانہ کو

پریشان نہ کیا جائے، میں گذشتہ ایک ماہ سے سو نہیں سکا اور گذشتہ 3 ماہ سے مجھے تنخواہ بھی نہیں ملی۔ضلع راولپنڈی کی تحصیل گجر خان کے گاؤں ترک وال کے رہائشی مذکورہ اے ایس آئی کا چند ماہ قبل ہی چکوال میں تبادلہ ہوا تھا، جہاں سے انھیں تحصیل کلر کہار کے ایک دوردراز گاؤں سرکلاں میں پولیس چیک پوسٹ کا انچارج مقرر کیا گیا۔واضح رہے کہ سرکلاں اشتہاری ملزمان کی محفوظ پناہ گاہ کی حیثیت سے بدنام ہے۔ایک پولیس افسر نے میڈیا کو بتایا مذکورہ اے ایس آئی 2 وجوہات کی بناء پر سرکلاں چیک پوسٹ پر ڈیوٹی سرانجام نہیں دینا چاہتے تھے، ایک تو یہ کہ انھوں نے اپنا زیادہ تر وقت اسپیشل برانچ میں گزارا تھا اور انھیں فیلڈ ورک کا کوئی تجربہ نہیں تھا اور دوسرا وہ ایک خطرناک علاقے میں واقع چیک پوسٹ کے انچارج کی حیثیت سے خدمات سرانجام نہیں دینا چاہتے تھے۔مذکورہ پولیس افسر نے بتایا کہ راولپنڈی سے چکوال تبادلے کے بعد انھیں گذشتہ 3 ماہ سے تنخواہ نہیں ملی تھی، جس کی وجہ ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں تبادلے کے سلسلے میں کاغذی کارروائی میں تاخیر تھی۔اے ایس آئی کے ایک قریبی دوست نے میڈیا کو بتایا کہ انھوں نے چند روز قبل ایک دوست سے 10 ہزار ادھار لے کر کچھ پیسے اپنے گھر بھجوائے تھے۔مذکورہ پولیس افسر نے

 

بتایا، ‘وہ دل کے مریض بھی تھے۔مرحوم نے پسماندگان میں ایک بیوی اور 4 بچے چھوڑے ہیں۔ میڈیا سے سے بات کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ پولیس افسر سکندر حیات نے اے ایس آئی کی خودکشی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ان کے اہلخانہ کی امداد کے لیے فنڈ جاری کردیا ہے، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا، ‘ان کے بچے بالکل میرے بچوں جیسے ہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…