جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

عمران خان کواپنے الفاظ پر کنٹرول نہیں، ساتھ رہنا میری مجبوری۔۔شیخ رشید کے بیان نے ہلچل مچا دی

datetime 11  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ آصف زرداری کے کندھے مضبوط نہیں ، سرخ قالین نواز شریف کا نہیں رہا، فضل الرحمان کا سیاسی خون او پازیٹیو ہے جبکہ عمران خان کو اپنے الفاظ پر کنٹرول نہیں۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے سابق صدر آصف علی زرداری بارے اپنا سیاسی تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ

آصف زرداری کے کندھے اب اتنے مضبوط نہیں رہے ہیں وہ جو لڑائی لڑ رہے ہیں اسے چھوڑ دیں۔ پانامہ کیس کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف کی سرخ قالین اب ان کی نہیں رہی بہت جلد ان سے چھن جائے گی۔ قومی اسمبلی دنگل بن چکی ۔ ن لیگ کی سینٹ میں مارچ کے مہینے میں برتری ہو جائے گی ۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ جو لوگ مشرف دور میں وزارتوں کے مزے لیتے رہے وہ اب نواز شریف کے ساتھ ہیں۔ریلو کٹے اور پھٹیچر قسم کے لوگ نواز شریف کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ کیس کے فیصلے میں ن اور قانون دونوں میں سے کسی ایک کی جیت ہوگی۔ڈان لیکس سکینڈل پر انہوں نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا فوج اور ن لیگ میں ایک بار پھر حالات کشیدہ ہیں۔ شیخ رشید نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حوالے سےکہا کہ فضل الرحمان کا سیاسی خون او پازیٹیو ہے ہر حکومت کو لگ جاتا ہے۔ ’’گو نواز گو‘‘ قومی نعرہ بن چکا ۔لوٹی ہوئی رقم بیرون ملک سے واپس لانے کے حوالے سے سوئس حکام سے معاہدوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔عمران خان کے ساتھ رہنا میری مجبوری ہے میںاپنی دوستی کی وجہ سے عمران خان کے ساتھ ہوں۔ عمران خان کو اپنے الفاظ پر کنٹرول نہیں ہے وہ الفاظ کا کھیل نہیں جانتے۔ اپنے حوالے سے بات کرتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے کہا کہ موت میری محبوبہ ہے مجھے کسی سے خوف نہیں ہے۔ قذافی سٹیڈیم شیخ رشید زندہ باد کے نعروں سے گونجتا رہا جنہیں سن کر میں خوشی سے جھوم اٹھاتھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…