جمعہ‬‮ ، 26 جون‬‮ 2026 

وائن ویڈیو بنانے والے کی قسمتی بدل گئی

datetime 9  مارچ‬‮  2015 |

بر طانیہ (نیوز ڈیسک )بارہ ماہ قبل تک بین فلپس گلین مورگن کی وادی میں اپنی والدہ کی جوتوں کی دوکان میں کام کرتا تھا۔ لیکن آج یہ 22 سالہ نوجوان سماجی رابطوں کی سائٹس پر شیئر کی جانے والی چھوٹی فلمیں جن کا دورانیہ صرف چھ سیکنڈ ہوتا ہے اور انہیں ’وائنز‘ کہا جاتا ہے کا مشہور ستارہ ہے۔ بین ان ویڈیوکلپس سے ہزاروں پاو¿نڈ کما رہا ہے اور دنیا بھر کی سیر بھی کر رہا ہے۔ یہ سب اس وقت شروع ہوا جب کچھ عرصہ قبل بین نے اپنی سابقہ محبوبہ اور اس کے تین سالہ بیٹے کے ساتھ وائنز ریکارڈ کرنی شروع کیں۔ اب سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اس کے لاکھوں فالورز ہیں۔ اس بارے میں بین کا کہنا ہے کہ ’میری زندگی مکمل طور پر تبدیل ہوگئی ہے، مجھے یاد ہے کہ جب میرے دس ہزار فالوورز ہوتے تھے تو میں بہت خوش ہواتھا اور پھر جب میرے ایک لاکھ فالوورز ہوئے تو میں ذہن میں خیال آیا کہ ہم لوگوں کی زندگیوں میں کچھ تو اچھا کر ہی رہے ہوں گے تو وہ ہم کو دیکھنا پسند کرتے ہیں۔‘ بین کہتے ہیں کہ ’میرے شروع میں ذیادہ امریکی فالوورز تھے جن کو ہماری وائنز بہت پسند آتی تھیں۔اکثر لوگ برطانیہ سے شروع کرتے ہیں اور پھر امریکہ پہنچتے ہیں پر ہم نے الٹی شروعات کی۔‘کاروباری اور مارکیٹنگ کمپنیاں اپنی مصنوعات بین کے وڈیو کلپس میں دیکھانے کے لیے ان کو اب پیسے دیتی ہیں۔ لیکن بین کہتے ہیں کہ یہ اشتہارات نہیں ہیں۔ ’مجھ سے کبھی نہیں کہا جاتا کے مصنوعات کی قیمت بتاو¿ں مجھ سے صرف یہ پوچھاجاتا ہے کہ کیا میں اپنی فلم میں ان کی مصنوعات کے ساتھ کچھ تفریح کر سکتا ہوں، میں ان سے رابطہ نہیں کرتا وہ مجھ سے رابطہ کرتے ہیں۔ فورڈ وہ پہلی کمپنی تھی جس نے بین کو چھ سیکنڈ کے کلپ میں اپنی مصنوعات دیکھانے کے عوض 12ہزار پاونڈ دیے تھے یعنی دو ہزار پاونڈ فی سیکنڈ۔ اگرچہ وہ پیسوں کے بارے میں بات کرنا پسند نہیں کرتے پر انھوں ان اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ایک کلپ کے لیے ان کو اس سے بھی ذیادہ معاوضہ مل چکاہے۔ ’جب تک کسی وائن کے 10 لاکھ ہٹس نہ ہوں تب تک مجھے ایک پیسہ بھی نہیں ملتا۔ پٹرول، کھانا اور زندگی مفت نہیں ہے اس لیے ہم وائنز میں کچھ اشتہار شامل کر لیتے ہیں لیکن ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ان وائنز کو جیتنا دلچسپ بنایا جا سکتا ہے بنایا جائے، صرف مصنوعات بیچنے کے لیے ہم یہ کلپس نہیں بناتے۔‘وائن ویڈیوز سے حاصل ہونے والی آمدنی کی بدولت بین یورپ گھوم چکے ہیں جہاں وہ پر تعیش ہوٹلوں میں قیام کرتے ہیں۔ بین کا کہنا ہے کہ ’آپ کے جتنے زیادہ فالوورز ہوتے ہیں اتنی ہی زیادہ آمدنی بھی ہوتی ہے۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…