اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی نے کہا ہے کہ میری حکومت ختم کرنے کی دو بڑی وجوہات تھیں۔ ایک ڈاکٹر عبد القدیر خان کو حوالے نہ کرنا اور دوسرا نواب اکبر بگٹی کیخلاف آپریشن کی اجازت نہ دینا۔ بے نظیر بھٹو کے دور میں رمزی مارا گیا اور نواز شریف کے دور میں ایمل کاسیمارا گیا۔اگر میں ڈاکتر عبد القدیر خان کو حوالے کر دیتا تو میرا سر شرم سے جھک جانا تھا اور میں نے شرم سے ہی مر جانا تھا۔ میر ظفراللہ خان جمالی نے کہا کہ جب اکبر بگٹی کا مسئلہ آیا تو میں نے صدر کو کہا کہ میں اس پر دستخط نہیں کروں گا ، آپ نیا وزیر اعظم ڈھونڈ لیں میں گھر جا رہا ہوں۔
مجھے کہا گیا کہ ڈاکٹر قدیر کے ساتھ یہ کام کر دو میں نے انکار کیا تو میری وزارت عظمیٰ چلی گئی!!!
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ایران، اسرائیل امریکا جنگ،بابا وانگا کی خطرناک پیشگوئی
-
عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتیں، حکومت پاکستان کا بڑا فیصلہ!
-
اختتام کا آغاز
-
یو اے ای میں مقیم پاکستانیوں کے لیے اہم خبر آگئی
-
دو چھٹیوں کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری
-
امریکا و اسرائیل کے حملے کے بعد ایرانی صدر کا پہلا بیان سامنے آگیا
-
پنجاب کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ہائی الرٹ جاری کردیا گیا
-
ایرانی میڈیا نے آیت اللہ خامنہ ای کا آخری پیغام سوشل میڈیا پر شیئر کردیا
-
خامنہ ای سے ملاقات کیلئے لوگوں کو آنکھوں پر پٹی باندھ کر لے جایا جاتا تھا، بڑا دعویٰ
-
سونا ہزاروں روپے مہنگا فی تولہ قیمت نے نیا ریکارڈ قائم کر دیا
-
پنجاب میں موٹر سائیکل اور گاڑی مالکان کے لیے اہم خبر آگئی
-
ایران کا اسرائیل پر مہلک حملہ، کئی افراد ہلاک
-
آیت اللہ علی خامنہ ای کی امریکی و اسرائیلی حملے میں شہادت پرروسی صدر پیوٹن کا بھی ردعمل بھی آگیا
-
پاکستان کے ایک سے زائد نیوز چینلز کی نشریات ہیک



















































