جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

پی آئی اے آسمان سے نہیں اتری ‘اے ٹی آر طیارہ حادثے پر چیئرمین کا استعفیٰ کافی نہیں بلکے یہ کام کیا جائے

datetime 23  دسمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(آئی این پی )چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے پی آئی طیارہ حادثے پر توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب موصول نہ ہونے پر سیکرٹری سول ایوی ایشن ڈویژن اور پی آئی اے کے متعلقہ ڈائریکٹر کو ایوان کا استحقاق مجروح کرنے کا نوٹس جاری کردیا۔چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہاکہ پی آئی اے آسمان سے نہیں اتری ،اے ٹی آر طیارہ حادثے پر چیئرمین پی آئی اے کا استعفیٰ کافی نہیں،پی آئی اے کا جواب نہ دینا وطیرہ بن گیا ہے۔
حادثے کے بعد پی آئی اے کے بیڑے میں شامل تمام اے ٹی آر طیاروں کو گراؤنڈ کردیا گیا ،لوگ پی آئی اے کا سفر کرنے سے پہلے بکروں کی قربانی دے رہے ہیں، اتنی لمبی چوڑی کابینہ ہے مگر افسوس کی بات ہے کہ آج کوئی وزیر توجہ دلاؤنوٹس کا جواب دینے کیلئے دستیاب نہیں۔تفصیلات کے مطابق جمعہ کو سینیٹ اجلاس میں سینیٹر ثمینہ عابد نے 8دسمبر کو چترال سے اسلام آباد آنے والی پی آئی اے پرواز کو حادثے میں 48افراد کے جاں بحق ہونے پر توجہ دلاؤنوٹس پیش کیا۔اس موقع پر ایوان میں موجود وفاقی وزیرقانون زاہد حامد نے سیکرٹری سینیٹ کے پاس جا کر ان کو آگاہ کیا کہ توجہ دلاؤ نوٹس کو موخر کردیا جائے کیوں کہ اس کا جواب دینے کیلئے فی الحا ل متعلقہ وزیر موجود نہیں۔
اس موقع پر چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہاکہ اتنی لمبی چوڑی کابینہ ہے مگر توجہ دلاؤنوٹس کا جواب دینے کیلئے کوئی وزیر دستیاب نہیں۔اس موقع پر قائد ایوان سینیٹر راجہ ظفرالحق نے کہاکہ میں صبح سے وفاقی وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا ہوں مگر میرا ان سے رابطہ نہیں ہوسکاجس پر چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہاکہ لمبی چوڑی کابینہ میں تقریباً35وزراء ہیں مگر توجہ دلاؤنوٹس کا جواب دینے کیلئے کوئی بھی وزیرموجود نہیں اگر کوئی وزیردستیاب نہیں تھا تو قائد ایوان کو ہی آگاہ کردیتے۔
انہوں نے کہاکہ پی آئی اے اے ٹی آر طیارے کو حادثے کے بعد پی آئی اے کے بیڑے میں شامل تمام اے ٹی آر طیاروں کو گراؤنڈ کردیا گیا ہے،لوگ پی آئی اے کا سفر کرنے سے پہلے بکروں کی قربانی دے رہے ہیں مگر افسوس کی بات ہے کہ اس حوالے سے ایوان کو آگاہ نہیں کیاجارہا ۔انہوں نے کہاکہ جواب نہ دینا پی آئی اے کا وطیرہ بن گیا ہے اس سے قبل سینیٹر مشاہد اللہ کی سربراہی میں پی آئی اے سپیشل کمیٹی میں بھی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔کمیٹی نے کئی بار پی آئی اے حکام سے معلومات مانگیں مگر ہر دفع کوئی نہ کوئی بہانہ بنا لیا جاتا ہے،پی آئی اے کوئی آسمان سے نہیں آئی ،موجودہ صورتحال پر پی آئی اے کے چیئرمین کا استعفیٰ کافی نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…