جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

’’کئی بار التجا کے باوجود حکومت پنجاب نے ہمیں یہ چھوٹی سی چیز بھی نہیں دی‘‘

datetime 19  دسمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(آن لائن)چیئرمین لاپتہ افراد کمیشن جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ ہماری بار بار التجا کے باوجود پنجاب حکومت نے ہمیں آفس کیلئے کمرہ اب تک نہیں دیا گیا،کمیشن اب تک 2416 مقدمات کا فیصلہ کر چکا ہے، اب 1276 مقدمات کا فیصلہ باقی ہے، کمیشن کی سفارشات پر عمل ہوتا تو آج حالات مختلف ہوتے۔سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس رحمان ملک کی زیر صدارت میں ہوا ،اجلاس میں لاپتہ کمیشن کے چئیرمین جسٹس جاوید اقبال نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران بریفنگ دیتے ہوئے جسٹس جاوید اقبال نے سینیٹر رحمن ملک کی ان دی ریکارڈ تعریف کرتے ہوئے کہا کہ رحمان ملک نے اس کمیشن کو نہ صرف مضبوط کیا بلکہ وسعت دی۔
ان کاوشوں کی وجہ سے پہلے کیسز درجنوں میں تھے اور اب ہزاروں میں ہیں ،دنیا کے دیگر ممالک میں بھی لاپتہ افراد کی حالت ایسی ہے جیسے پاکستان کی،کمیشن نے چھ ماہ کام کیا اور اگر سفارشات پر عمل ہوتا تو آج حالات مختلف ہوتے۔ جسٹس جاوید اقبال نے کہاکہ جسٹس کمال منصور کے وقت کمیشن میں لاپتہ افراد کی تعداد136 تھی،آج تک ایبٹ آباد کمشن کی سفارشات پر بھی عمل نہیں ہوا۔ جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ اگر سفارشات پر عمل ہوتا تو نئے اداروں کی ضرورت نہ پڑتی،ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کسی الماری میں پڑی ہو گی۔
جاوید اقبال نے کہاکہ ایبٹ باد کمیشن کی رپورٹ کو منظر عام پر لایا جائے۔انہوں نے کہاکہ ایک وقت آیا کہ لاپتہ افراد کی تعداد 136 سے بڑھ کر 3692 ہو گئی،اب تک 2416 مقدمات کا فیصلہ کمیشن کر چکا ہے۔ جاوید اقبال نے کہ کہ اب 1276 مقدمات کا فیصلہ باقی ہے،ہماری بار بار التجا کے باوجود پنجاب حکومت نے ہمیں آفس کیلئے کمرے اب تک نہیں دیا گیا۔ جاوید اقبال نے کہاکہ ہمیں لاہور میں میٹنگ کیلئے کمرہ کرائے پر لینا پڑتا ہے۔انہوں نے وفاقی پولیس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے لاپتہ افراد کے حوالے بہت اچھا کام کیا۔



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…