پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

’’اسلام کس قدر خوبصورت دین ہے بھارتی بھی مان گئے ‘‘ سشما سوراج نے مسلمانوں بارے میں کیا کہا ؟ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

datetime 19  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

نئی دہلی( آن لائن )بھارتی وزیرِ خارجہ سشما سوراج جو کہ گردوں کے عارضے میں مبتلا ہیں انہیں کئی انڈین شہری اپنا گردہ عطیہ کرنے کی پیشکش کر رہے ہیں۔خیال رہے کہ انڈین وزیرِ خارجہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام میں اپنی علالت کے بارے میں بتایا تھا اور کہا تھا کہ وہ گردوں کے ٹرانسپلانٹ سے متعلق ٹیٹس کروانے جا رہی ہیں۔ان کی عمر 64 برس ہے اور وہ ذیابیطس کے دائمی مرض میں مبتلا ہیں۔ انھیں رواں ماہ کے آغاز میں دہلی ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔سشما سوراج انڈین وزیراعظم کی کابینہ کی سب سے اہم وزارت کا قلمدان سنبھالے ہوئے ہیں۔اپنی ٹویٹ میں بتایا تھا کہ وہ اپنے گردے فیل ہونے کے بعد ڈائلیسسز کروا رہی ہیں۔خیال رہے کہ دیگر اعضا کے برعکس کوئی بھی انسان زندہ رہتے ہوئے ہی اپنا ایک گردہ کسی کو عطیہ کر سکتا ہے کیونکہ انسانی جسم کی فعالیت کے لیے ایک گردہ بھی کافی ہوتا ہے۔سماجی رابطوں پر صارفین سشما سوراج کو اپنا گردہ عطیہ کرنے کی پیشکش کر رہے ہیں اور کچھ نے اپنے نمبرز بھی مہیا کیے ہیں۔
دوسری جانب بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا ہے کہ انہیں گردے کا عطیہ دینے کے خواہش مند پرستاروں کا تعلق کئی مذاہب سے ہے اور ان میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے۔بھارتی میڈیاکے مطابق آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز نئی دہلی میں کڈنی ٹرانسپلاننٹ کے لئے داخل بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ انہیں گردے کا عطیہ دینے کے خواہش مند پرستاروں کا تعلق کئی مذاہب سے ہے اور ان میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ عطیہ میں دیئے جانے والے گردے پرکسی بھی مذہب کا لیبل نہیں ہوتا ۔انہوں نے یہ بات اتر پردیش کے رہائشی ایک بھارتی مسلمان مجیب انصاری کی طرف سے اپنے نام ٹوئٹر پر ملنے والے ایک پیغام کے جواب میں کہا جس میں کہا گیا تھا کہ “میں ایک مسلمان ہوں اور ایک گردہ عطیہ دینا چاہتا ہوں کیونکہ آپ میری ماں کی طرح ہیں”۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…