جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

عمران خان کے بعد پیپلز پارٹ نے بھی حکومت کیلئے سخت مشکلات کھڑی کر دیں۔۔۔تہلکہ خیز خبر آ گئی

datetime 30  اکتوبر‬‮  2016 |

کوئٹہ(آئی این پی)چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہمارا مطالبہ ہے وزیراعظم نوازشریف اور وزیرداخلہ چوہدری نثار استعفیٰ دیں،وزیراعظم کے سامنے چار مطالبات رکھے ہیں اگر نہ مانے گئے تو قبل ازوقت انتخابات مہم چلاؤنگا،جو کچھ ہورہا ہے بہت دکھ ہورہا ہے لیکن پاکستان کھپے کھپے،وزیرداخلہ طالبان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں ان کے ساتھ فوٹو سیشن کراتے ہیں،ڈاکٹر عاصم وزیرداخلہ کا اور کراچی کا میئر نوازشریف کا قیدی ہے۔اتوار کو چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سانحہ کوئٹہ کے زخمیوں کی عیادت کرنے کیلئے کوئٹہ اسپتال آمد ہوئی،جہاں انہوں نے زخمیوں کی عیادت کی اور ان کے بلند حوصلے کو خراج تحسین پیش کیا۔ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری کی سول ہسپتال آمد پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کوئٹہ سول ہسپتال کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے خاندان اور بلوچستان کی عوام کا دکھ ایک ہی ہے۔بلاول بھٹو اپنی ماں کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے،مجھے اپنی والدہ کی ایک ایک بات یاد ہے ۔مجھے جو کچھ ہورہا ہے بہت دکھ ہورہا ہے،کھپے کھپے پاکستان ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی عوام کا دکھ سمجھتا ہوں،بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ایک ہی پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا،بلوچستان حکومت ایک سڑک تک نہیں سنبھال سکتی،ہمیں شریفستان،(ن) لیگ اور وزیرداخلہ کی ضرورت نہیں ،میری بہت پہلے کی خواہش تھی کہ میں بلوچستان آؤں،وزیرداخلہ طالبان کے ساتھ فوٹو سیشن کرا رہے ہیں اور ڈاکٹر عاصم چوہدری نثار کا قیدی ہے اور وزیرداخلہ خود طالبان سے ملاقاتیں کر رہا ہے،ہماری سکیورٹی فورسز بہادی سے دہشتگردوں سے لڑ رہی ہیں،کراچی میں جو بھی واقعہ ہوا تو (ن) لیگ نے مطالبہ کیا کہ قائم علی شاہ مستعفیٰ ہوں ،دہشتگردوں کیخلاف غیرت مند اور وفادار لوگ لڑنے کیلئے تیار نہیں ہیں،چوہدری نثار علی خان نے ہمیں نشانہ بنانے میں اپنا فائدہ سوچا ہے۔انہوں نے کہاکہ میرے،ایان علی،اعتزاز کیخلاف بات کرنا ہو تو پریس کانفرنس کرتے ہیں جب دہشتگردی کا واقعہ ہوتا ہے تو چپ ہوجاتے ہیں،عمران خان کٹھ پتلی بننا چاہتے ہیں یہ اس کی عادت میں شامل ہے،چیف آرمی سٹاف نے سیاست میں مداخلت نہیں کی،جمہوریت ہی اس وقت ملک کا واحد راستہ ہے کیونکہ جمہوریت احتساب کے بغیر نہیں چل سکتی،دھوم دھڑکا،دھمکیاں،عمران خان پریشان ہوکر گھومتے رہیں گے،اس وقت عمران خان کو کوئی سہارا نہیں مل رہا ٹائم ضائع کر رہے ہیں اور ایمپائر کی انگلی نہ اٹھنے سے خان صاحب کو خاصی پریشانی ہے اور ان کی بدقسمتی ہے۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…