اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

ڈرگ کی لیبارٹریاں اب گریڈ کرنے کا فیصلہ

datetime 3  مارچ‬‮  2015 |

کراچی(نیو ڈیسک ) پاکستان میں دواﺅں کے کیمیائی تجزیے اوردوا کی افادیت کوجانچے کے لیے عالمی معیارکی ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری موجود نہیں ہے اور اسی فقدان کے پیش نظر عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے ڈرگ لیبارٹریاں اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔عالمی ادارہ صحت نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی حکام سے کہا ہے کہ وہ ادویہ کی جانچ پڑتال اور افادیت کو جانچنے کیلیے ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریز کوعالمی معیارکے مطابق بنانے کیلیے اپنی خدمات پیش کرنے کو تیار ہے۔ اس سلسلے میں پیر کوعالمی ادارہ صحت کے ماہرین نے کراچی کی ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کا دورہ بھی کیااورموجودہ لیبارٹری کو جدید تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کرنے اورعالمی معیارکے مطابق بنانے کیلیے تیکنیکی سپورٹ فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔واضح رہے کہ اس وقت ملک بھر میں ادویہ کے کیمیائی تجزیے اور دواو¿ں کی افادیت کوجانچنے کیلیے مجموعی طور پر 7ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریاں موجود ہیں جوعالمی معیار کے مطابق نہیں اوران لیبارٹریوں میں سہولتیں بھی میسر نہیں ان میں کراچی میں 2، لاہور میں 3، کوئٹہ اور پشاور میں ایک ایک لیبارٹری شامل ہے۔عالمی ادارہ صحت اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان ، ملک میں 7ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کو عالمی معیار کے مطابق اپ گریڈ کریں گے۔وفاقی ڈرگ انسپکٹر عبید علی نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ مسئلہ معیار کا نہیں ہے، وسائل اور سیاسی بصیرت کا ہے۔ ہمارے پاس بھی وہی مشینیں، وہی لوگ اور طریقہ کار موجود ہے۔ امریکا میں ادویہ کا ایک سال کا بجٹ 4.9بلین ڈالر ہے۔ دریں اثنا پیرکو فارمسسٹ ایسوسی ایشن اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی اور عالمی ادارہ صحت کے ماہرین کے اعزاز میں تقریب بھی منعقد کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…