جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی اہلیہ ہر دوسرے روز انکے دفتر آکر کس کی تصویر ان کے سامنے رکھ دیتی ہیں اور کیوں ؟

datetime 9  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ہر دلعزیز آرمی چیف جنرل راحیل شریف اپنی ریٹائر منٹ کے فیصلے پر قائم ہیں اور وہ اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہیں چاہتے۔ذرائع کے مطابق جنرل راحیل شریف اپنا ٹینیور با عزت طریقے سے گزارنا چاہتے ہیں۔ قائد اعظم کے فرمودات ، جن میں سے کایک کام کام اور بس کام ہے ، قائد کا یہی فرمان ان کی زندگی کا محور ہے ۔
انہوں نے اپنے کاز کے لئے دن رات ایک کردیا۔ان کی اہلیہ ان کے کاز کے لئے انہی کی طرح کمٹڈ ہیں۔اپنے آفس میں جنرل راحیل عموماً رات گئے تک کام کرتے ہیں۔ان کے آفس میں لیٹ ہونے پر ان کی اہلیہ ان کے لئے کھانا گھر سے لے کے جاتی ہیں۔وہ ان کے اندر تھکاوٹ کے آثارمحسوس کریں تو ان کی ٹیبل کے دراز سے اے پی ایس کے شہید طالبعلموں کی تصاویر نکال کر سامنے رکھ دیتی ہیں جس سے جنرل راحیل کے دہشتگردوں کے خاتمے کے عزم کو نیا ولولہ ملتا ہے۔انکے قریبی ذرائع کہتے ہیں جنرل راحیل شریف کے جاں نشین انہی کی طرح پاک فوج کی پالیسیوں پر کاربند رہیں گے۔ ان کے ساتھی فوج کی پالیسیوں کو اس طرح لاگو کریں گے کہ کسی کو جنرل راحیل کی کمی محسوس ہوگی نہ جو من مانی کی پلاننگ کئے بیٹھے ہیں ان کے جشن منانے کا عرصہ طویل ہوگا۔کوئی فوج سے کتنے جرنیلوں کو بائی پاس کرکے” اپنے جنرل“ کو آرمی چیف کے عہدے پر لے آئے وہ ہوگا فوج ہی سے۔۔۔نواز شریف اور ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے جرنیل لانے کا خمیازہ بری طرح بھگتا ہے۔میاں نواز شریف شکر کریں کہ ان کا بھٹو جیسا المناک انجام نہیں ہوا۔اب وہ ”اپنا جرنیل“ لانے کی کوشش نہ کریں،جس کا حق بنتا ہے یا جس کی سفارش جنرل راحیل کریں اس کو آرمی چیف بنا دیں ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…