جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کے حق میں کوئی بھی مسلم ملک بیان دینے کوتیارنہیں ،سینیٹ میں اہم سوال اٹھادیاگیا

datetime 7  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(آئی این پی)اے این پی کے سینیٹر الیاس بلور نے کہا ہے کہ آج پاکستان کی کوئی خارجہ پالیسی نہیں ہے، پاکستان کے دوست دشمن بن گئے ہیں،ہم غیر ریاستی عناصر کو پال رہے ہیں، افغانستان کے ساتھ کشیدگی سے پختونوں کو نقصان ہوگا آج افغانستان پاکستان کا بڑا دشمن بنا ہوا ہے۔ ہمیں اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی چاہئے،آج ہمارا کوئی دوست نہیں رہا مسلم ممالک کوئی بھی پاکستان کے حق میں بیان دینے کو تیار نہیں، پاکستان کو سب سے زیادہ افغانستان جنگ سے نقصان ہوا۔وہ جمعرات کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں مسٗلہ کشمیر اور سرحدوں پر بھارتی جارحیت کے حوالے سے بحث میں اظہار خیا ل کر رہے تھے۔ سینیٹر الیاس بلور نے کہا کہ پاکستان کی کوئی خارجہ پالیسی نہیں ہے آج پاکستان کے دوست ہمارے دشمن بن گئے ہیں، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم نان سٹیٹ ایکٹرز کو پال رہے ہیں ہم دوسرے کے معاملات میں دخل اندازی کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ لوگ ہمارے خلاف ہوئے آج ڈھاکہ ہمارے خلاف ہوگیا ہے ‘ اشرف غنی سب سے پہلے پاکستان آیا کسی دوسرے ملک میں نہیں گیا تھا مگر آج وہ ہمارے کیوں خلاف ہوا۔ افغانستان کے ساتھ کشیدگی سے پختونوں کو نقصان ہوگا آج افغانستان پاکستان کا بڑا دشمن بنا ہوا ہے۔ ہمیں اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔ آج ہمارا کوئی دوست نہیں رہا مسلم ممالک کوئی بھی پاکستان کے حق میں بیان دینے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم مودی نے مسلمانوں پر مظالم ڈھائے مگر مودی یو پی سے منتخب وہ کر آیا اور یو پی میں اکثریت مسلم آبادی کی ہے بھارتی حکومت نہیں بلکہ شیو سینا مسلمانوں کو دھمکیاں دیتی ہے ہمیں شیو سینا کا کچھ کرنا چاہئے انہوں نے کہا کہ ستر سال سے کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوا اور آئندہ بھی کشمیر کا مسئلہ حل ہوتا نظر نہیں آرہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سب سے زیادہ افغانستان جنگ سے نقصان ہوا اس جنگ میں کچھ جرنیلوں اور مولانا نے بہت پیسے بنائے مگر آج جتنے نان ستیٹ ایکٹر ہیں افغانستان جنگ کی وجہ سے ہیں ہمیں سب کچھ بھول کر نان سٹیٹ ایکٹر ز کو ختم کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…