جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

منگلا ڈیم میں خرابی کے بعد ایک اور بڑا جھٹکا۔۔۔ مزید کتنے ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم سے نکل گئی؟ اصل وجہ بھی سامنے آگئی

datetime 2  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں توانائی کے گزشتہ کئی برس سے جاری بحران نے ایک دم سنگین صورتحال اختیار کر لی ہے۔ منگلا ڈیم میں خرابی کے بعد ملک کا بیشتر حصہ بجلی کی فراہمی سے محروم ہو گیا  مگر اس کے ساتھ ہی ایک اور بڑا جھٹکا بھی یہ لگا کہ واپڈا کی جانب سے بجلی کے پیداواری ادارے کو تیل کی عدم ادائیگی کی وجہ سے بجلی کی فراہمی کی بندش کا سامنا بھی کرنا پڑ گیا ہے اور آج سے مزید 4 ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم سے کٹ گئی ہے ۔ جس کے بعد ملک میں بجلی کا بحران مزید سنگین صورتحال اختیار کر جائے گا۔ دوسری جانب وزیراعظم پاکستان نے لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کا بورڈ آف ڈائریکٹر بھی توڑ دیا ہے ۔ نندی پور پاور پراجیکٹ، کوٹ ادو، مظفر گڑھ اور دیگر کمپنیوں کی جانب سے بجلی کی صرف چالیس فیصد فراہمی کی جارہی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب بھر میں بجلی کا ایمرجنسی بریک ڈاؤن ہوگیا ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق بجلی بحران شدت اختیار کرگیا ہے ، اس وقت بجلی کی طلب لگ بھگ ساڑھے سولہ ہزار میگا واٹ جبکہ رسد ساڑھے گیارہ ہزار میگا واٹ ہے، آدھے سے زیادہ لاہور تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے، پنجاب کے کئی علاقے گذشتہ پانچ گھنٹوں سے بجلی سے محروم ہیں، میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ سیالکوٹ ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، سرگودھا اور شجاع آباد میں بھی پچھلے کئی گھنٹوں سے بجلی بند ہے۔ذرائع کے مطابق اسلام آباد سے گرڈ سٹیشین بند کیے گئے تھے جو اب آہستہ آہستہ بحال کیے جارہے ہیں تاہم حکومت کی طرف سے ابھی تک کوئی وضاحت نہیں آئی۔ بجلی کی اچانک بندش نے ملک بھر میں افواہوں کا بازار گرم کر دیا اور یہ افواہ بھی گردش کرتی رہی کہ شائد پاک بھارت جنگ شروع ہوگئی ہے۔اطلاعات کے مطابق لاہور کا 80 فیصد علاقہ اس وقت بجلی سے محروم ہے۔، آئیسکو حکام کے مطابق یہ بریک ڈاؤن منگلا بجلی گھر میں فنی خرابی کی وجہ سے پیدا ہوا ہے جس پر قابو پانے کے لیے ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں۔یہ بھی اطلاع آئی ہے کہ بہاولنگر اور گردو نواح کے علاقوں میں پچھلے آٹھ گھنٹوں سے بجلی بند ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…