اتوار‬‮ ، 11 جنوری‬‮ 2026 

مریم نواز کے ٹویٹ ، عمران خان خو د میدان میں آگئے کیا کہہ دیا ؟سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی

datetime 28  ستمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین جو سوشل میڈیا پر ایکٹیو رہنے کی وجہ سے نوجوانوں کے پسندیدہ ترین لیڈر ہیں ان کے مقابلے میں حمزہ شہباز شریف اور مریم نواز نے بھی اسی لائحہ عمل کو اپناتے ہوئے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے مخالفین پر ضرب لگانے اور نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کرنے کا سلسہ شروع کر رکھا ہے ۔ حال ہی میں مریم نواز شریف اور عمران خان کے مابین سخت لفظی جنگ فیس بک اور ٹویٹر پر چھڑ گئی ہے جس میں دونوں رہنمائوں کی جانب سے دلچسپ پیغامات سوشل میڈیا پر منظر عام پر آرہے ہیں ۔مریم نواز شریف نے ٹوئیٹر پر ایک پیغام میں عمران خان کے بارے میں لکھا ہے کہ عمران خان فارغ اور بے روز گار انسان ہیں اس لیے ان کے پاس یہ سب کرنے کیلئے ٹائم ہے ، عمران خان نے مریم نواز شریف کے ٹوئٹ کا جواب دییتے ہوئے لکھا ہے کہ کیا آئس لینڈ کے لوگ پانامہ لیکس پر اپنے وزیراعظم کا نام آنے پر سڑکوں پر نکلے تھے کیا وہ بھی بے روزگار تھے ؟تفصیلات کے مطابق عمران خان نے مریم نواز کے ٹوئٹ کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان لوگوں کو علم ہی نہیں  ہے کہ ظلم اور زیادتی کے خلاف احتجاج ایک جہاد ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل عمران خان نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ لائن آف کنٹرول پر صورتحال انتہائی کشیدہ ہے دونوں اطراف گولیاں چل رہی ہیں اور وزیراعظم لندن میں شاپنگ میں مصروف ہیں۔سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان کا کہناتھا کہ کنٹرول لائن اور پاکستان کی مشرقی سرحدوں پر صورتحال کشیدہ ہے لیکن وزیراعظم نواز شریف ان دنوں چھٹیاں منارہے ہیں اور لندن میں شاپنگ کررہے ہیں۔واضح رہے کہ وزیر اعظم نواز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے بعد لندن سے پاکستان واپس آ گئے ہیں ۔ سینئر صحافی اور اینکر پرسن کاشف عباسی نے بھی اس سلسلے میں نئی بحث چھیڑی ہےکہ مودی کی پاکستان مخالف میٹنگز کے جواب میں پاکستانی وزیر اعظم لندن میں شاپنگ کرتے پھر رہے ہیں جو اس وقت کے حالات کے مطابق انہیں زیب نہیں دیتا ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…