جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت نے سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی دیدی۔۔اگر بھارت سندھ طاس معاہدہ ختم کردے تو کیا ہوگا؟ کیا پاکستان واقعی بوندبوند کا محتاج ہوجائے گا؟سینئرتجزیہ کارنے حقیقت بتاکرانڈیاکی امیدوں پرپانی پھیردیا

datetime 24  ستمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سینئرتجزیہ کارہارون رشید نے کہاہے کہ بھارت پاکستان کاپانی بند نہیں کرسکتا۔ایک نجی ٹی وی پرسندھ طاس معاہدے اوربھارت کی طرف سے پانی بندکرنے کی دھمکی پرتجزیہ کرتے ہوئے ہارون رشید نے کہاکہ بھارت کے پاس کوئی اختیارنہیں ہے کہ وہ پاکستان کاپانی بندکردے گا۔انہوں نے کہاکہ کہ کیابھارت کے پاس ایساڈیم ہے کہ وہ پاکستان کوپانی فراہم کررہاہے اوراس کوبندکردے گا۔ہارون رشید نے افغانستان کے کابل ڈیم کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ افغانستان میں کابل ڈیم لاہوروالی ڈیم سے پچاس گناچھوٹاہے اورجلال آبادکے قریب افغانستان میں انہوں نے ڈیم بنایاہے اورپانی پاکستان سے جاتاہے ۔انہوں نے کہاکہ بھارت 1947سے خودفریبی میں مبتلاہے کہ وہ پاکستان کاپانی بندکردے گا۔ہارون رشید نے کہاکہ بھارت نے قیام پاکستان سے ہی ہمارے وطن کوتسلیم نہیں کیا۔اس نے پاکستان کے دوحصے کئے اورمقبوضہ کشمیرپرقبضہ کررکھاہے اوراب بھی بھارت کوخودفریبی ہے کہ وہ پاکستان کوفتح کرلے گا۔انہوں نے کہاکہ اگربھارت ایک کروڑ کی فوج بھی لے آئے توپاکستان کوفتح نہیں کرسکتا،ہارون رشید نے کہاکہ پانچ لاکھ فوج بھارتی فوج کشمیرمیں ہے اوروہاں پربھارت بے بس ہے ہماراتوایک وطن ہے جوایٹمی طاقت ہے ۔پاکستان جغرافیائی لحاظ سے ایسے خطے میں ہے کہ کئی بڑے ممالک کے مفادات پاکستان سے وابستہ ہیں جوکہ انڈیاسے وابستہ نہیں ہیں ۔ہارون رشید نے کہاکہ بھارتی وزیراعظم نریندرامودی کے پاکستان پر17حملے کرنے کی باتیں خودفریبی ہے اوروہ یہ کہہ کربھارتی عوام کوجنگ پراکسارہے ہیں ۔انہو ں نے کہاکہ پاکستانی عوام بہترجانتے ہیں کہ اب بھارت کچھ نہیں کرسکتا،ایک پاکستان اسلامی ملک ہے ،ہمارے پاس ایک مضبوط فوج ہے اورہمارے لئے موت کوئی چیزنہیں بلکہ ہم شہادت کارتبہ حاصل کرناچاہتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ بھارت کی طرف سے پاکستان کاپانی بندکرنااعلان جنگ ہوگااوربھارت ایساسوچ بھی نہیں سکتااورسندھ طاس معاہدے کاضامن عالمی بنک ہے ۔بھارت کیسے پاکستان کاپانی بندکرسکتاہے یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ان میں کوئی حقیقت نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ سندھ طاس معاہد ہ بھارت یک طرفہ طورپرختم نہیں کرسکتایہ ایک عالمی معاہدہ ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…