جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

اگر میں نوازشریف کی جگہ ہوتا تو۔۔۔! پرویزمشرف نے پاکستان کی حکمت عملی میں بڑے غلطی کی نشاندہی کردی

datetime 24  ستمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)اگر میں نوازشریف کی جگہ ہوتا تو۔۔۔! پرویزمشرف نے پاکستان کی حکمت عملی میں بڑے غلطی کی نشاندہی کردی،اگر میں نوازشریف کی جگہ ہوتا تو پہلے بنگلہ دیش اور کشمیر کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے حوالے سے سوالات اٹھاتا وہ معاملات کلئیر کرنے کے بعد ہی اپنے اوپر لگائے جانے والے تازہ الزامات کی طرف توجہ دیتا کیونکہ یہ تو بہت بعد کے ہیں جبکہ بھارت کی مداخلت تو سب کے سامنے ہے اور بھارت میں حکومتی سطح پر مداخلت کو تسلیم کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں ہمارے پاس تو اس سلسلے میں کلدیو بھوشن جیسے بڑے بڑے ثبوت بھی موجود ہیں، سابق صدر اور ریٹائرڈ آرمی چیف جنر ل پرویز مشرف نے بھارتی صحافی کو لائیو ٹی وی شو میں چپ کروا دیا۔ سابق صدر کا کہنا تھا کہ یک طرفہ الزامات اور پاکستان کو ہمیشہ قصوروار ٹھہرانے کے عمل سے مجھے ہمیشہ آگ لگتی ہے اور تم لوگوں کا یہ کام مجھ سے قطعاً برداشت نہیں ہوتا۔ پرویز مشرف کا مزید کہنا تھا کہ جھوٹ بولنا بند کرو اور اگر ہمت ہے تو سچ بول کر دکھاؤ۔جس کے جواب میں بھارتی اینکرنے حافظ سعید احمد کی ایک تقریر کا حوالہ دیا کہ وہ پٹھانکوٹ طرز کیمزید حملوں کی دھمکیاں دے رہے تھے تو جب وہ کھلے عام بھارت کے خلاف ایسا کہہ رہے ہیں تو یہ بھارت کے خلاف پاکستان کی دھمکی نہیں ؟جس کے جواب میں سابق آرمی چیف نے دبنگ انداز میں شٹ اپ کال دیتے ہوئے بھارتی صحافی کو یہ کہہ کر چپ کروا دیا کہ وہ تو ایک غیر سرکاری شخص کا انفرادی بیان ہے جبکہ آپ کے صدر، وزیراعظم اور وزیردفاع سمیت ہر حکومتی عہدیدار پاکستان کے ٹکڑے کرنے کی باتیں کر رہا ہے تو کیا اس پر بات نہیں کی جانی چاہئے ؟اس پر بھارتی صحافی نے ایک بار پھر پنیترا بدلتے ہوئے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم تو پاکستانی وزیراعظم کی نواسی کی شادی میں شرکت کرنے جاتے ہیں جبکہ تاریخ میں پہلی مرتبہ پٹھانکوٹ معاملے پر انکوائری کمیشن بٹھانے پر بھی آمادگی پاکستان کی جانب سے ظاہر کی گئی جس کے جواب میں مشرف نے ایک بار پھر زور دور موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ انصاف کی بات کرنا بالکل ٹھیک ہے اور ہم ہمیشہ ہی اصولی بات کرتے ہیں مگر اگر میں نوازشریف کی جگہ ہوتا تو پہلے بنگلہ دیش اور کشمیر کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے حوالے سے سوالات اٹھاتا وہ معاملات کلئیر کرنے کے بعد ہی اپنے اوپر لگائے جانے والے تازہ الزامات کی طرف توجہ دیتا کیونکہ یہ تو بہت بعد کے ہیں جبکہ بھارت کی مداخلت تو سب کے سامنے ہے اور بھارت میں حکومتی سطح پر مداخلت کو تسلیم کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں ہمارے پاس تو اس سلسلے میں کلدیو بھوشن جیسے بڑے بڑے ثبوت بھی موجود ہیں جس پر اینکر کو کوئی بات نہ آئی تو اس نے بریک لے لی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…