لاہور(این این آئی )پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر لقادری نے کہا ہے کہ شریف برادران کی شوگر ملوں میں کام کرنیوالے 300میں سے 50بھارتی انجینئر ز،ٹیکنیشنز،آئی ٹی سپیشلسٹ اور ویلڈرز کے ویزوں پر پاکستان آئے ،رمضان شوگر مل سے 300 سے زائد لیٹر بھارت میں پاکستانی ہائی کمشنر کو بھجوائے گئے جنہیں پولیس رپورٹ اور چیکنگ سے استثنیٰ کی ہدایت کی گئی ۔ماڈل ٹاؤن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طاہر القادری نے کہا کہ 2010 تک پاکستان سے بھارت جانے والے سالانہ سرمائے کی مالیت 10کروڑ روپے تھی ،شریف برادران کی حکومت آنے کے بعد ایک سال میں 470ارب روپیہ سالانہ بھارت منتقل ہو رہا ہے ۔26نومبر 2015 کو اپیکس کمیٹی میں ایک کور کمانڈر نے کہا کہ پنجاب پولیس دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کی صلاحیت نہیں رکھتی ،رینجرز کو آپریشن کی اجازت ملنی چاہیے۔دو اڑھائی سو دہشتگرد پنجاب سے پکڑ لئے جائیں تو ایک ہی رات میں سانحہ ماڈل ٹاؤن دہشتگردی کا کھرا بھی چند وزراء سے ہوتا ہوا براہ راست سلطنت شریفیہ کے گھروں تک جائے گا۔بارڈر پر کشیدگی اور حکمران خاندان میں دوستی ہے ۔کسی بھی شخص کے ماتھے پر جاسوس نہیں لکھا ہوتا کلبھوشن کے ماتھے پر بھی جاسوس نہیں لکھاہوا تھا ۔50 بھارتی کے نام بمعہ پاسپورٹ نمبر اجرا پہلی قسط ہے حکمران تردید کریں دوسری قسط بھی جاری کر دوں گا ۔کیا بھارتی انجینئر ز ،ٹیکنیشن،آئی ٹی ایکسپرٹس کو ویزا قوانین اجازت دیتے ہیں؟بھارت سے آنے والے جاسوس نہیں تو پھر پولیس تصدیق اور رپورٹنگ سے انہیں استثنیٰ کیوں حاصل ہے ؟ ۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ 3ستمبر کو راولپنڈی کے سا لمیت پاکستان مارچ کے موقع پر حکمران خاندان کی طرف سے ملکی سا لمیت پر حملوں کے حوالے سے میں نے جو انکشافات کئے تھے آج کے دن تک اس کی سرکاری سطح پر تردید نہیں آئی ،یہ خاموشی جرم کا اعتراف ہے ۔انہوں نے کہا کہ جرائم کے ثبوت ختم کرنے کیلئے ریکارڈ کو جلا دیا جاتا ہے ۔میٹرو بس ،ایل ڈی اے پلازہ اور نندی پور کے ریکارڈ کو جلایا جا چکا،رمضان شوگر مل کو آگ لگنا معنی خیز ہے اس شوگر مل میں انڈین موجود تھے ۔میرا سوال ہے کہ صرف حکمران خاندان کو یہ سہولت میسر کیوں ہے؟ انہوں نے کہاکہ دونوں ملکوں کے درمیان دشمنی ہے جبکہ حکمران خاندان نے اپنی شو گر ملوں میں انڈینز کو پناہ دے رکھی ہے ،کیا یہ سہولت کسی اور کاروباری خاندان کو بھی حاصل ہے؟ ۔انہوں نے کہاکہ شریف خاندان اور وزراء کو گرفتار کر لیا جائے ورنہ میٹرو بس لاہور اور نندی پور پاور پروجیکٹ کی طرح اہم ریکارڈ جلا دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ شریف فیملی سپیشل انڈین پرسونلزکوخصوصی ویزوں پر بلاتی ہے یہ ملٹی پل ویزے ہوتے ہیں اور مروجہ قوانین کو معطل کر کے لگوائے جاتے ہیں ۔سکیورٹی کے اداروں کو کلیرنس کے عمل سے الگ رکھا جاتا ہے کیونکہ تمام ادارے انکی مٹھی میں ہیں ۔انہوں نے کہاکہ عوام اور ادارے فیصلہ کریں انہیں پاکستان چاہیے یا حکمران خاندان،دہشتگرد اور انکے سہولت کار کراچی میں ہو ں،سندھ میں ہوں ،وزیر ستان میں ہوں یا پنجاب میں انکا خاتمہ ہونا چاہیے۔
شریف برادران کی شوگر ملوں کتنے بھارتی موجود؟کیسے پاکستان پہنچے ؟حیرت انگیز انکشافات
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)
-
دکانوں اور مارکیٹس کے نئے اوقات کار جاری، اب کتنے بجے بند ہوں گی؟
-
گرمی کی شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے موسم گرما کی تعطیلات کا شیڈول جاری کردیا
-
بجلی کے بھاری بلوں میں ریلیف! بجلی صارفین کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
اسلام آباد میں 30 سالہ فرخ چوہدری کے اغواء اور ہلاکت کا معمہ حل
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان
-
گاڑیوں کی خریداری۔۔! نیا حکم نامہ جاری
-
ایرانی ریال خریدنے والوں کو مرکزی بینک نے خبردار کر دیا
-
پیدائش سے 5 سال تک کے بچوں کو 3 ہزار روپے وظیفہ دینے کا فیصلہ
-
ایران امریکا جنگ: یو اے ای میں رہنا پاکستانیوں کیلئے مشکل ہوگیا، سیکڑوں ہم وطن واپس پہنچ گئے
-
زلزلے کے جھٹکے ، لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے
-
سوزوکی نے پاکستان میں اپنی نئی گاڑی متعارف کرا دی
-
ملک میں سونے کی قیمت میں دو دن میں بڑا اضافہ
-
پی ڈی ایم اے نے ممکنہ موسمی صورتحال پر ایڈوائزری جاری



















































