جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

فور جی کے بعد فائیو جی جو فورجی سے 65 ہزار گنا تیز

datetime 26  فروری‬‮  2015 |

برطانیہ(نیوز ڈیسک) کی سرے یونیورسٹی کے فائٹو جی انوویشن سینٹر میں ایک ٹیرابٹ یعنی ایک کھرب ہندسوں کو ایک سیکنڈ میں منتقل کیا گیا جو کہ ڈیٹا اکٹھا کرنے کی موجودہ رفتار سے کئی ہزار گنا زیادہ ہے۔اس ٹیکنالوجی کی تیاری کے لیے فائیو جی آئی سی کے سربراہ پرامید ہیں کہ 2018 تک اسے عوام کے سامنے لایا جائے گا۔آفکوم کمپنی نے کہا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی 2020 تک برطانیہ میں دستیاب ہوگی۔فائیو جینئی ٹیکنالوجی سے ایک ٹی بی پی ایس کی مدد سے ایک فیچر فلم کے سائز سے 100 گنا زیادہ مواد صرف تین سیکنڈ میں ڈاﺅن لوڈ کیا جا سکے گا۔یاد رہے کہ یہ سپیڈ اس وقت موجود فور جی ڈاو¿ن لوڈ ٹیکنالوجی سے 65 ہزار گنا تیز ہے۔یہ ٹیکنا لوجی سام سنگ کی جانب سے کیے جانے والی ٹیسٹ سے بھی کہیں زیادہ اچھی ہوگی جس میں ایک سیکنڈ کے دورانیے میں سات اعشاریہ پانچ گیگابائٹ پر مشتمل مواد کو ڈاو¿ن لوڈ کیا جا سکتا تھا۔ یہ رفتار سرے یونیورسٹی ٹیم کی جانب سے حاصل کی جانے والی رفتار کا ایک فیصد بھی نہیں ہے۔نیوز ویب سائٹ وی تھری کے مطابق فائیو جی آئی سی کے ڈائریکٹر پروفیسر راحم تفازولی نے کہا کہ ’ہم نے دس مزید ٹیکنالوجی بنائی ہیں اور ان میں سے ایک سے ہم ون ٹی بی پی ایس کو وائرلیس بنیادوں پر چلاسکیں‘ان کا کہنا تھا کہ فائبر آپٹکس میں بھی اتنے ہی مواد کو منتقل کرنے کی صلاحیت ہوگی تاہم وہ اسے تار کے بغیر کر رہے ہیں۔پروفیسر راحم تفازولی کی ٹیم نے لیبارٹری میں اپنے سازوسان سے 100 میٹر کے فاصلے پر تجربہ کیا۔تبدیلی کی جانب قدمفائیو جی ٹیکنالوجی کی تحقیق کے لیے دنیا کی بڑی ٹیلی کام فرمز برطانوی حکومت کا ساتھ دے رہی ہیںپروفیسر راحم تفازولی کہتے ہیں کہ ابھی یہ مرحلہ باقی ہے کہ حقیقی دنیا یعنی تجربہ گاہ سے باہر کے ماحول میں اتنی ہی رفتار حاصل کرنا ممکن ہوگا یا نہیں۔ وہ عوامی سطح پر اس ٹیکنالوجی کو متعارف کروانے سے پہلے یونیورسٹی میں مختلف مقامات پر اس پر تجربہ کریں گے۔اس منصوبے کے نگران ادارے آفکام فائیو جی ٹیکنالوجی کو عوام میں لانے کے لیے گذشتہ ایک ماہ سے معاونت کر رہا ہے۔رواں سال جنوری میں آفکام کے چیف ایگزیکٹو سٹیو انگر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’فائیو جی وائرلیس نیٹ ورک کی صلاحیت میںموجودہ فور جی کی نسبت مزید تبدیلی ضرور لائے گی۔‘پروفیسر راحم تفازولی کہتے ہیں کہ فائیو جی کے حوالے سے ایک اہم پہلو یہ ہے کہ وہ مستقبل کی ایپلیکیشنز میں کیسے مددگار ہوگی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…