بدھ‬‮ ، 17 جون‬‮ 2026 

کیا زمین کے علاوہ بھی کہیں زندگی ممکن ہے؟ ماہرین فلکیات کی نئی دریافت نے ہلچل مچا دی

datetime 14  ستمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )سائنس دانوں نے دعوی کیا کہ انھوں نے زمین سے ملتا جلتا ایک ایسا سیارہ دریافت کیا ہے جو زمین سے انتہائی قریب اورزمین جیسا ہی ہے۔سائنسی جریدے نیچر‘ میں شائع رپورٹ میں پیل ریڈ ڈاٹ نامی ٹیم کے سربراہ گولیم اینگلاڈا سکودے نے کہا کہ ویسے تو نظامِ شمسی سے باہر سینکڑوں سیارے دریافت ہو چکے ہیں لیکن یہ سیارہ زمین سے انتہائی قریب ہے۔ سائنس دانوں نے جب ہمارے قریب ترین ستارے ’پروکسیما سینٹوری‘ کا مشاہدہ کیا تو انھیں وہاں زمین کی جسامت کا سیارہ نظر آیا جو اپنے سورج پروکسیما سینٹوری کے گرد چکر لگا رہا ہے۔یہ چٹانوں والا سیارہ، جسے پروکسیمیا بی کا نام دیا گیا ہے، اپنے سورج کے گرد ایک ایسے خطے میں گردش کر رہا ہے جہاں اس کی سطح پر پانی زمین کی طرح مائع حالت میں رہ سکتا ہے۔پروکسیما بی زمین سے 40 کھرب کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جہاں موجودہ ٹیکنالوجی پر مبنی کسی خلائی طیارہ پہنچنے میں ہزاروں سال لگ سکتے ہیں۔تاہم کائناتی اعتبار سے یہ نظامِ شمسی کا پڑوس کہلاتا ہے۔سائنسی جریدے کے مطابق وہاں جانا یقینی طور پر سائنس فکشن ہے لیکن لوگ اس کے بارے میں ابھی سے سوچ رہے ہیں۔ اور یہ کہنا کہ ہم کسی دن وہاں اپنی خلائی گاڑی بھیج سکتے ہیں اب صرف خیال آرائی نہیں رہی۔ ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ نودریافت شدہ سیارہ کس حد تک قابل رہائش ہو گا۔کوین میری یونیورسٹی آف لندن کے محقق اور ان کے گروپ نے تسلیم کیا ہے کہ ابھی اس ضمن میں بہت کام ہونا باقی ہے اور انھیں اپنے مشاہدے کو مزید وسیع کرنا ہے۔ابھی تک حاصل شدہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ یہ زمین سے تقریباً سوا گنا بڑا ہے اور یہ اپنے سورج سے 75 لاکھ کلو میٹر کے فاصلے پر گردش کر رہا ہے اور اپنے سورج کا ایک چکر لگانے میں اسے 11.2 دن لگتے ہیں۔زمین اور سورج کے درمیان کی جو دوری ہے اس کے مقابلے میں پروکسیما بی اپنے سورج سے صرف پانچ فی صد دور واقع ہے لیکن یہ سورج ہمارے سورج کے مقابلے پر ایک ہزار گنا کم روشن ہے۔ اس لیے جو توانائی پروکسیما اپنے سیارے پر ڈالتا ہے وہ زمین کے مقابلے میں صرف 70 فی صد ہے۔فی الحال یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا اس سیارے پر کسی قسم کا کرہ ہوائی موجود ہے یا نہیں۔



کالم



Pale Blue Dot


کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…