ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

کم و بیش سوسال پہلےانسانی روح کے حوالے سے کیا گیا ایک تجربہ جسے سائنسدان آج بھی درست ماننے پر مجبور ہیں ۔۔۔! پراسرارانکشاف

datetime 20  اگست‬‮  2016 |

میسا چیوٹس (مانیٹرنگ ڈیسک) غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست میسا چیوٹس کے ڈاکٹر ڈنکن میک ڈگل نے 1907ء میں اپنے تجربات سے ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ انہوں نے روح کا وزن معلوم کر لیا ہے۔ اس تجربے کیلئے انہوں نے ایسے چھ بیمار مریضوں کو چُنا جن کی جلد موت یقینی تھی۔ انھیں اس تجربے کیلئے خاص طور پر بنائے گئے بیڈز پر لٹایا گیا۔ ڈاکٹر میک ڈگل نے ان مریضوں کا موت سے قبل اور بعد میں وزن کیا اور ان کے رزلٹس کو آپس میں ملا دیا اور اپنے حسابی کلیات سے ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مرنے کے بعد ان افراد کے وزن میں معمولی سی تبدیلی آئی تھی، جو 21 گرام بنتی ہے۔ اس دعوے کے بعد ڈاکٹر میگ ڈگل کا دنیا بھر میں بہت چرچا ہوا۔ لوگوں نے ماننا شروع کر دیا ہے کہ حقیقی طور پر روح کا وزن 21 گرام ہی ہوتا ہے۔ تاہم بعد ازاں دیگر ماہرین نے ڈاکٹر میک ڈگل کے تجربات کو پرکھا تو انھیں اس میں بہت سی خامیاں نظر آئیں۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ میک ڈگل نے اپنے اس تجربے کو ثابت کرنے کیلئے صرف 6 انسانی جسموں کو استعمال کیا ہے اس لئے ان کے دعوے میں تضاد موجود ہے۔ وہ دن ہے اور آج کا دن سائنس دان اس بات کو ثابت نہیں کر سکے کہ آیا روح کا وزن 21 گرام ہے یا کچھ اور، لیکن ایک صدی سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود بہت سے لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ڈاکٹر میک ڈگل کا دعویٰ درست تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…