ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

شام حکومت کا اسلامی تاریخ پر”شب خون”،مشہور عثمانی سلطان کا ماضی بدل ڈالا

datetime 12  اگست‬‮  2016 |

دھماکس (نیوز ڈیسک) شام میں صدر بشارالاسد کی وزارت تعلیم نے سکول کے طلبہ کے لیے تاریخ کی کتابوں میں بعض اصطلاحات میں بنیادی نوعیت کی تبدیلی کی ہے، جس میں خاص طور پر عثمانی دور کو ہدف بنایا گیا ہے۔تعلیمی سال 2016۔2017 کے لیے تاریخ کی کتاب کے نئے ایڈیشن میں سلطنت عثمانیہ کے سلطان ” محمد فاتح” کے نام سے “فاتح” کی صفت کو حذف کر دیا گیا ہے۔ اس طرح کتاب میں ان کا نام صرف ” محمد ثانی” رہ گیا ہے۔آٹھویں جماعت کی تاریخ کی کتاب میں ایک عبارت اس طرح سے تھی “ہم قسطنطنیہ کی فتح کو واضح کریں گے”۔ یہ عبارت تحریف کے بعد یوں ہو گئی ہے “ہم قسطنطنیہ پر قبضے کی اہمیت کو واضح کریں گے”۔ اس کے علاوہ “قسطنطنیہ کی فتح” کو بدل کر “قسطنطنیہ کا سقوط” یا “قسطنطنیہ میں داخل ہونے” سے تبدیل کر دیا گیا ہے۔تاریخ کی کتابوں میں سلطنت عثمانیہ کے لیے استعمال ہونے والے “فتح” کے لفظ کو ہر جگہ سیاق کے برخلاف “داخل ہونے” یا “قبضے” کے الفاظ سے بدل دیا گیا ہے۔ اس طرح یہ صیغہ “عثمانی فتح” سے تبدیل ہو کر “عثمانی داخلے” یا “عثمانی قبضے” سے تبدیل ہو گیا ہے۔ یہ تمام تبدیلیاں بشار الاسد کی وزارت تعلیم کی جانب سے سرکاری طور دی گئی ہدایات پر عمل میں لائی گئی ہیں۔یہاں تک کہ بلقان سے متعلق تاریخی واقعات میں بھی تحریف کی گئی ہے۔”بلقان کی فتح” کو “بلقان میں داخلہ ” بنا دیا گیا ہے۔ وہ تمام علاقے “جوعثمانیوں نے فتح کیے” یہ عبارت اب تبدیل ہو کر وہ تمام علاقے “جن پر عثمانیوں نے قبضہ کیا” ہو گئی ہے۔شام میں دینی تعلیم کا مضمون ختم کرنے کا مطالبہ سب سے پہلے شامی حکومت کے مفتی احمد بدر الدین حسون نے 2013 کے آخر میں کیا تھا۔ انہوں نے مذکورہ مضمون کے بدلے “قومی تعلیم” کا مضمون شامل کرنے پر زور دیا تھا۔تاریخ کی کتابوں کی اصطلاحات میں بنیادی تبدیلیاں ظاہر کرنے والی دستاویز کی تصویر جاری ہونے کے بعد متعدد تبصرے سامنے آئے ہیں۔ شام کے طلبہ اب تک ان کتابوں کی سابقہ اصطلاحات کو پڑھ کر ہی پروان چڑھے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…