بدھ‬‮ ، 17 جون‬‮ 2026 

اہم اسلامی ملک کے مسلمان بھائیوں کی ایسی ایجاد جس سے لاکھوں کروڑوں لوگوں کی زندگیا ں بچانا ممکن

datetime 10  اگست‬‮  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)دو افغان بھائیوں مسعود اور محمود حسنی نے تین برس قبل گیند کی شکل کی ایجاد سے پوری دنیا کو حیران کر دیا تھا جو زمین میں دبی بارودوی سرنگوں کو تلاش اور انہیں تباہ کر سکتی تھی۔ اب ان بھائیوں نے ایک اور کامیابی حاصل کی ہے۔افغانستان میں اپنے بچپن کی خوفناک یادوں کے باعث بارودی سرنگوں کے خلاف کام کرنا ان کی زندگی کا مقصد بن گیا ہے۔ اس وقت یہ دونوں بھائی ہالینڈ میں رہتے ہیں۔ ان کی تازہ ترین ایجاد کم لاگت والا ایک ڈرون ہے جو بارودی سرنگوں کا نہ صرف کھوج لگا سکتا ہے بلکہ ہر سال ہزاروں انسانوں کی جانیں لینے والے اس خطرناک ہتھیار کو تباہ بھی کر سکتا ہے۔مسعود اور محمود نے 2013ء4 اپنی ایجاد کی بدولت جسے انہوں نے ’مائن کافون‘ کا نام دیا تھا، پوری دنیا میں شہرت حاصل کی تھی۔ یہ دراصل ایک بہت بڑی سی گیند کی شکل کی ڈیوائس ہے اور جو ہوا کے زور پر حرکت کر سکتی ہے اور اس دوران زمین میں بچھی بارودی سرنگوں کا کھوج لگا سکتی ہے۔بارودی سرنگیں تلاش کرنے والی ان کی نئی ڈیوائس میں دراصل ڈرون ٹیکنالوجی، تھری ڈی پرنٹنگ اور روبوٹکس کو جمع کر دیا گیا ہے جس میں ایک میٹل ڈیٹیکٹر یعنی دھاتوں کا پتہ لگانے والے آلے سے بارودی سرنگوں کا کھوج لگا کر انہیں تباہ کیا جا سکتا ہے۔مسعود اور محمود حسنی نے تین برس قبل گیند کی شکل کی ایجاد سے پوری دنیا کو حیران کر دیا تھا جو زمین میں دبی بارودوی سرنگوں کو تلاش اور انہیں تباہ کر سکتی تھی
مسعود اور محمود حسنی نے تین برس قبل گیند کی شکل کی ایجاد سے پوری دنیا کو حیران کر دیا تھا جو زمین میں دبی بارودوی سرنگوں کو تلاش اور انہیں تباہ کر سکتی تھیچھ بازوؤں والے ڈرون پر لگے پنکھے ساڑھے چار کلو وزن کو اڑا لے جانے کی طاقت رکھتے ہیں جبکہ ڈرون کی باڈی پر سخت پلاسٹک سے بنی کیسنگ میں بیٹریاں، کمپیوٹر اور ایک گلوبل پوزیشنگ سسٹم نصب ہے۔ ڈرون کے مرکزی حصے کے نیچے ایک روبوٹک آرم یا بازو ہے جس کے نچلے حصے پر چمٹیوں یا موچنیوں کی شکل کی ڈیوائسز کو ریموٹ کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ یہ چمٹیاں میٹل ڈیٹیکٹر اور کم مقدار میں دھماکا خیز مواد پکڑ سکتی ہیں۔ میٹل ڈیٹیکٹر سے زمین میں نصب بارودی سرنگ کا پتہ لگانے کے بعد اس بارود کے ذریعے اسے چھوٹا سا دھماکا کر کے تباہ کیا جا سکتا ہے۔ جی پی ایس سسٹم کی بدولت اس کی پرواز کے راستے کو کمپیوٹر کے ذریعے بھی کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔مسعود حسنی بتاتے ہیں کہ ان کا یہ ڈرون تین مرحلوں میں کام کرتا ہے، یعنی علاقے کا نقشہ یا میپنگ، بارودی سرنگوں کا کھوج لگانا اور پھر انہیں تباہ کرنا۔ جب بارودی سرنگ تباہ ہو جاتی ہے تو پھر ایک تھری میپنگ سسٹم اْس علاقے کو اسکین کرتا ہے جسے کمپیوٹر ریکارڈ میں بارودی سرنگوں سے پاک قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد پہلے سے پروگرام کردہ راستے پر میٹل ڈیٹیکٹر کے ساتھ پرواز کرتے ہوئے یہ ڈرون اس سارے حصے کا اچھا طرح جائزہ لیتا ہے۔



کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…