اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

انسان کی خراب صحت ہی بالوں کی بیماریوں کا سبب بنتی ہے، تحقیق

datetime 23  فروری‬‮  2015 |

مختلف ملکوں کے ڈاکٹرز نے تحقیق میں کہا ہے کہ بال درحقیقت انسانی صحت کو جانچنے کا بیرو میٹر ہے اسی لیے بہت سی بیماریوں کا پتا لگانےکے لیے ان کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے اس لیے بالوں کی بیماریوں کو سنجیدگی سے لینا چاہئے کیونکہ اصل بیماری آپ کے جسم کے اندر موجود ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بالوں کو صحت ہمارے خون سے فراہم ہوتی ہے اور جب خون میں میڈی کیشن، ہارمونز یا پھر نیوٹرینٹس کی کمی کے باعث تبدیلی واقع ہوتی ہے تو بالوں کا گرنا اور خشکی جیسے مرض پیدا ہوجاتے ہیں بالکل اسی طرح انسان کا دماغی طورپریشانی کا شکار ہونا بھی بالوں کے گرنے کا باعث بنتا ہے اور اگر اس پر قابو پا لیاجائے تو بال دوبارہ بڑھنا شروع ہوجائیں گے۔
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ جیسے ہی آپ اپنے بالوں میں کوئی غیر معمولی تبدیلی دیکھیں اور علاج کے بعد بھی بالوں کا گرنا، خشکی اور سوکھا پن دور نہ ہوتو فوری طور پر ٹرائی کولوجسٹ سے رابطہ کریں۔
تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ جو لوگ تھائی رائیڈ سے متعلق بیماریوں اور موسمی بخار کا شکار ہوجاتے ہیں ان کے بال تیزی سے گرنا شروع کردیتے ہیں اس لیے بالوں کے علاج سے پہلے ان بیماریوں کا علاج کریں تو بالوں کی بیماریاں خود بخود ختم ہوجائیں گی اس کے علاوہ کینسر، دل اور اینیمیا جیسی بیماریاں بھی بالوں کی کئی بیماریوں کا باعث بنتی ہیں۔
غذا میں کمی جسم میں پروٹین کی کمی کو جنم دیتی ہے جو ماراسمس کی بیماری کا باعث ہوتا ہے اور اس سے بالوں میں خشکی اور سفیدی اترنا شروع ہو جاتی ہے جبکہ جسم میں زنک کی کمی بھی بالوں کے گرنے اور سفید کرنے میں کردار ادا کرتی ہے جب کہ تمام ٹرائی کولوجسٹ اس بات پر متفق ہیں کہ بالوں کے علاج سے قبل اپنے جسم میں موجود بیماریوں کا علاج ضروری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…