ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

چڑیا گھر کے بیمار رکھوالے کو بستر پر دیکھ کر’ زرافے ‘کا ایسا اقدام جسے دیکھ کر آپ روپڑیں گے

datetime 5  جولائی  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) نیدر لینڈز کے چڑیا گھرکا انوکھا واقعہ‘ چڑیا گھر کی رکھوالی کرنے والے شخص کو جان لیوا کینسر لاحق ہوا تو اس نے اپنی آخری خواہش کا اظہار کیا کہ اسے انہی زرافوں کے پاس لیجایا جائے کہ جن کاوہ خیال رکھتا تھا۔تفصیل کے مطابق چڑیا گھر کے رکھوالے کو خطرناک کینسر کا مرض لاحق تھا‘ اسے اس کی آخری خواہش کے مطابق چڑیاگھر میں زرافوں کے پاس لیجایا گیا تو زرافے اس کے پاس آ کر ایک ایسا کام کرنے لگے کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں بھر آئیں۔اخبار دی انڈیپینڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق 54 سالہ ماریو روٹرڈیم کے بیرکارڈ بلیج ڈارپ چڑیاگھر میں ملازمت کرتا تھا، جہاں اس کی ذمہ داری زرافوں کی دیکھ بھال تھی۔
ماریو کو کینسر کی جان لیوا بیماری لاحق ہوئی تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کے پاس چند دن باقی رہ گئے ہیں تو ماریو نے زرافوں کو الوداع کہنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ماریو کو زرافوں کے باڑے میں لیجایا گیاتو چند ہی لمحوں میں تمام زرافے اس کے اردگرداکٹھے ہوگئے۔ باڑے میں موجود تمام زرافے محبت بھرے انداز سے ماریو کے چہرے کو چھونے لگے۔عام طور پر جانوروں کو جذبات و احساسات سے عاری سمجھا جاتا ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے‘زرافے بیمار ماریو کو بار بار ماریو کو چومتے اور اس کے گال سہلاتے تھے۔مذکورہ جذباتی مناظر دیکھنے والا کوئی بھی شخص اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکااور ان مناظر کی تصاویر اب کروڑوں انٹرنیٹ صارفین کے دلوں کو چھو رہی ہیں۔
اس موقع پر ادارے ایمبولینس وش فاؤنڈیشن کی بانی کیس ویلڈ بور بھی موجود تھیں۔ انہوں نے یہ منظر دیکھا تو کہا کہ ’’ان جانوروں نے اسے پہچان لیا تھا، اور انہیں یہ بھی محسوس ہوگیا تھا کہ عمر بھر ان کا خیال رکھنے والے ان کے مہربان دوست کی حالت اچھی نہیں تھی۔ وہ اس طرح محبت اور شفقت کے ساتھ اسے چوم رہے تھے کہ گویا انتہائی غمزدہ دل کے ساتھ اسے الوداع کہہ رہے ہوں۔ یہ بہت ہی خاص لمحے تھے۔ ماریو بہت بیمار تھے اور بولنے کے قابل نہیں تھے، لیکن ان کا چہرہ بہت کچھ کہہ رہا تھا۔ ان کا چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا۔‘‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…