لندن قدرت نے ماں کے پیٹ میں بچے کی نشوونما کیلئے ایک مخصوص مدت مقرر کر رکھی ہے مگر بعض اوقات مخصوص صورتحال میں ڈاکٹروں کو زچگی کے عمل کا آغاز کرنے کیلئے خصوصی اقدامات کرنے پڑتے ہیں اور ایسے میں یہ سوال اہم ہے کہ کتنی مدت کے بعد زچگی کے عمل کا آغاز کر دینا ضوری اور بہتر ہے۔ ایک حالیہ تحقیق میں ماہرین نے تقریباً 8 لاکھ بچوں کی پیدائش کا مطالعہ کیا اور معلم کیا کہ 37 ہفتے کا وقت بچے کی صحتمند پیدائش کیلئے موزوں ترین ہے۔ اگر حمل کی مدت 37 ہفتے ہو تو بچے میں موت کا خدشہ یا ذہنی و جسمانی نقائص کا خدشہ واضح طور پر کم ہو جاتا ہے۔ اتنی مخصوص مدت کے حمل کے باعث سریبرل پالسی بیماری میں 26 فیصد کمی دیکھی گئی۔ ڈنمارک میں کی گئی اس تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا کہ اس مدت کے حمل کے نتیجہ میں مردہ پیدا ہونے والے بچوں میں 50 فیصد کمی ہوتی ہوئی، asphyxia نامی بیماری کا خدشہ 23 فیصدکم ہوا۔ اسی طرح ضرورت سے زیادہ وزن کے بچوں کی پیدائش میں ایک تہائی کمی دیکھی گئی۔ البتہ اس مدت کے بعد بچے کے رحم مادر سے باہر آنے میں مشکلات دیکھی گئی ہیں۔ یہ تحقیق سائنسی جریدے “DJOG” میں شائع کی گئی ہے۔خبر کا حوالہ
بچون کو خوفناک بیماریوں سے محفو ظ رکھنے کیلئے حمل کا دورانیہ کتنا ہو چاہیے؟تاریخ ساز تحقیق میں تہلکہ خیز انکشاف
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
چین کا نظام
-
سولر پینلز کی قیمتوں میں بڑی کمی، بیٹریاں اور انورٹرز بھی سستے ہوگئے
-
چھٹی ختم فیصلہ ہوگیا
-
سونے کی قیمت عالمی دباؤ کا شکار، ایک دہائی کی بدترین سہ ماہی کا خدشہ
-
سونے کی فی تولہ قیمت میں حیران کن کمی
-
محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کر دی
-
فنانس ایکٹ 2026 کا نفاذ: کون سی گاڑیاں سستی ہوں گی اور کون سی مہنگی؟
-
پیٹرول کی قیمت میں مزید کمی کا امکان، وزارت خزانہ کی رپورٹ جاری
-
سونے کی فی تولہ قیمت میں بڑا اضافہ
-
کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنما شوکت نواز میر ساتھی سمیت گرفتار
-
آج سے تعلیمی اداروں پر بڑی پابندی عائد
-
عماد وسیم اور ثانیہ اشفاق کی مبینہ آڈیو لیک ہوگئی،ہلچل مچ گئی
-
عالمی منڈی سے خوشخبری، خام تیل مزید سستا، پاکستان میں بھی پیٹرول سستا ہونے کی امید
-
سپریم کورٹ کا بہنوں کو 71 سال بعد وراثتی جائیدار میں حصہ دینے کا حکم



















































