ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

ماہرین کا انسان اور مچھلیوں بارے عجیب و غریب انکشاف، جان کر چونک اٹھیں گے

datetime 8  جون‬‮  2016 |

لاہور (ا ین این آئی)اگرچہ ہم انسانوں کو تمام مچھلیاں ایک جیسی ہی لگتی ہیں لیکن خود مچھلیاں انسان کو چہرے کی بنا پر شناخت کرنے کی حیرت انگیز صلاحیت رکھتی ہیں۔ امریکہ اور آسٹریلیا کے ماہرین نے آرچر فش میں ایک حیرت انگیز صلاحیت دریافت کی ہے جو اب تک کسی چھوٹی مچھلی میں دریافت ہونے والی پہلی صلاحیت ہے کہ یہ بہت درستگی کے ساتھ انسانی چہروں کو پہچان سکتی ہے جواس مچھلی کی ذہنی صلاحیت اور برین پروسیسنگ کو ظاہر کرتی ہے۔ماہرین نے اس مچھلی پر تحقیق کے بعد کہا ہے کہ انسانی چہروں کو پہچاننا ایک مشکل عمل ہے لیکن مچھلی جیسی مخلوق کے لیے یہ اس سے بھی مشکل ہے۔ تمام انسانوں کی 2 آنکھیں، ایک ناک اور دو کان اور ہونٹ ہوتے ہیں اور مچھلی ایک چھوٹا جانوراسے پہچان لے تو یہ ایک غیرمعمولی عمل ہوتا ہے۔آرچر فش چھوٹے کیڑوں پر اپنے منہ سے پانی کی پچکاری مار کر انہیں گرا کر کھاتی ہیں اور اسی وجہ سے یہ مشہور ہیں لیکن یہی مچھلیاں انسانی چہرے بھی شناخت کرسکتی ہیں۔ یونیورسٹی آف کوئنزلینڈ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آرچر 44چہروں میں سے مخصوص چہرے کو پہچان سکتی ہے اس کے لیے مچھلی کو پانی کے ٹینک میں رکھا گیا اور اس نے تصویر پر پانی کی پچکاری مار کر اس کی شناخت کی۔تجربے میں مچھلی نے 44تصاویر میں سے مطلوبہ چہرہ 81فیصد درستگی سے شناخت کرلیا۔ ماہرین کے مطابق مچھلیوں کا دماغ سادہ ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود بعض مچھلیاں چہرے پہچان سکتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…