پیر‬‮ ، 07 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت رمضان میں دعائیں لے گی یا بددعائیں؟

datetime 5  جون‬‮  2016 |

کراچی (این این آئی) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ نے کہا کہ موجودہ بجٹ اس ملک کی غریب عوام پر ڈرون حملے سے کسی طور پر بھی کم نہیں ہے ،گزشتہ تین سالوں میں حکومت نے ملکی اقتصادیات کا بیڑہ غرق کردیاہے اس پرپرانے قرضوں کو اتارنے کے لیے دھڑادھڑ نئے قرضے لیے جارہے ہیں ۔حکومت نے مسلسل تین سالوں سے عوام کو اعدادو شمار کے ہھیر پھیر میں دبا رکھا ہے اس بار بھی موجودہ بجٹ سے حکومت کی جانب سے نام نہاد خوشحالی کے تمام بلند وباگ دعوے زمین بوس ہوچکے ہیں ۔یہ طے ہے کہ رمضان المبارک میں حکومت کا عوام دشمن بجٹ روزے داروں کی بدعاؤں کا سبب بنے گا،مہنگائی اور غربت میں پسی ہوئی عوام پر جس ا نداز میں بلواسطہ ٹیکسوں سے عوام کی کمر توڑی گئی ہیں اس سے حکومت کا مکروہ چہرہ مزید بے نقاب ہوگیاہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے عادل ہاؤس کراچی سے جاری بیان میں کیا ۔حلیم عادل شیخ نے کہا کہ حکومت نے اس ملک کی زرعی پیدوار کا بھٹہ بٹھادیا ہے جبکہ بوند بوند ترستی عوام کے لیے پینے کے صاف پانی پر بھی ٹیکسوں کا انبار لگادیا گیا ہے ، جس سے یہ کہنا مناسب ہوگا کہ عوام کی امیدیں ایک بار پھر دم توڑ گئی ہیں مگراس کے برعکس آئی ایم ایف کا منشی بیرونی آقاؤں کو خوش کرنے میں کامیاب ہوگیا،پہلے ہی گھی آٹا دالیں غریب عوام کی دسترس سے کوسوں دور تھیں اس پر حکومتی بجٹ نے عوام کی رہی سہی کمر بھی توڑ ڈالی ہے ۔پرانے قرضوں کو اتارنے کے لیے دھڑادھڑ نئے قرضے لیے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس سے بڑھ کر ہماری اور کیا بدقسمتی ہوگی کہ ایک زرعی ملک ہونے کے باجود اس ملک کی زراعت کو مسلسل نظر انداز کیا جارہاہے ،جہاں حکومت کو اپنے مفادات نظر آتے ہیں وہاں وہ تمام کام کرگزرتی ہے جو ان کے لیے مال بنانے کے لیے بہتر ہو اس بار بھی حکومت نے اپنے بجٹ میں غربت مہنگائی اور اس ملک میں پھیلی پس ماندگی کو بڑھاوا دیاہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سارا بجٹ آئی ایم ایف کے فریم ورک میں رہتے ہوئے پیش کیا ہے انہیں کہا کہ اس ملک کی غریب عوام کی زندگیوں کی کوئی پروا نہیں ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…