اسلام آباد (این این آئی) سپریم کورٹ نے حکومت کو محکمہ صحت سندھ کی جانے والی بھرتیوں کو مستقل کرنے سے روک دیا ۔ منگل کو چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں قائم 3رکنی بینچ نے محکمہ صحت سندھ میں غیر قانونی بھرتیوں پر از خود نوٹس کی سماعت کی اور فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے کیس کا فیصلہ ہونے تک حکومت کو بھرتی کیے جانے والے ملازمین کو مستقل کرنے سے روکتے ہوئے کہا کہ سندھ میں بھرتیوں سے متعلق فیصلہ عدالت کریگی ۔عدالت نے وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے بنائی جانے والی تحقیقاتی کمیٹی سے 2ہفتوں میں رپورٹ طلب کر تے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی ۔سماعت کے دوران حکومتی وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد تحقیقاتی کمیٹی بنادی ہے جو 1ماہ میں اپنی رپورٹ پیش کریگی ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کمیٹی عدالت سے جان چھڑانے کیلئے بنائی گئی ہے،کمیٹی آپس میں تمام معاملات طے کر لے گی۔چیف جسٹس نے حکومتی وکیل سے استفسار کیا کہ سندھ حکومت میرٹ پر بھرتیاں کیوں نہیں کرتی ؟میرٹ پر کام نہ کرنے کی کوئی تو وجہ پتہ چلے ، کیا سندھ میں سب لوگ برابر نہیں۔ حکومت بھرتیوں کے قانونی طریقہ پر عمل درآمد کیوں نہیں کرتی ؟۔
سرکاری ملازمین کی نوکریاں خطرے میں،سپریم کورٹ نے حکم جاری کردیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
موٹر سائیکل سوار افراد کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)
-
نیٹ میٹرنگ ! سولر صارفین کو بڑی سہولت مل گئی
-
محکمہ موسمیات نے شدید بارشوں کی پیشگوئی کردی
-
ملازمین کی کم از کم ماہانہ اجرت، بڑی خوشخبری آگئی
-
عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں بڑی چھلانگ، فی اونس نرخ 4500 ڈالر سے تجاوز کرگیا
-
کھیرے کے ٹکڑوں پر گھر میں بنا یہ پاؤڈر چھڑکیں اور چوہوں اور کاکروچز سے نجات پائیں
-
موسمِ سرما کی پہلی برف باری
-
ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت میں بڑی کمی
-
پاکستان میں کینسر کے کیسز میں غیر معمولی اضافہ، نئی تحقیق میں اہم انکشافات
-
سرکاری ملازمین کی شادی شدہ بیٹیوں کے لیے نوکری، بڑی خبر آگئی
-
بینک اسلامی نے شرعی اصولوں پر مبنی سونے کی بنیاد پر ملک کی پہلی فنانسنگ سہولت کا آغاز کر دیا
-
زلزلے کے جھٹکے، شہریوںمیں خوف وہراس پھیل گیا
-
اداکارہ مسکان ملک سڑک کنارے دودھ کی ٹھنڈی بوتلیں فروخت کرنے پر مجبور



















































