کراچی (نیوزڈیسک)آئندہ تیس برسوں میں دنیا کی دور کی نظر خراب ہو جائے گی۔تقریباً 5 ارب لو گ 2050 تک زیادہ دور تک نہیں دیکھ پائیں گے۔2000کے مقابلے میں 2050میں دور کی مطر کی کمی سے مستقل اندھے پن میں سات گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔برطانوی میڈیا نے سائنسی جریدے کے حوالے سے بتایا کہ دور کی نظرکی خرابی مستقل اندھے پن کی پانچویں بڑی وجہ ہے۔
ماہرین کے نزدیک دنیا بھر میں لو گوں کی دور کی نظرکی خرابی میں اضافے اور اس سے مستقل اندھے ہونے کی وجوہ میں دن میں روشنی کی کمی اور کمپیو ٹر ، ٹی وی یا موبائل فون کی سکرین پر زیادہ وقت صرف کرنا شامل ہے۔بچوں کو آﺅٹ ڈور کے لئے کم وقت دیا جارہا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ طرز زندگی نے دنیا میںاندھے پن کی شرح میں اضافہ کیا ہے۔بچے قدرتی روشنی میں زیادہ وقت نہیں گزارتے اور زیادہ وقت کتابیں پڑھنے یا اسکرین پر نظر ے جمائے رکھنے سے یہ مسائل پیدا ہو رہے ہیں ، ماہرین نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بچوں کی نظربا قاعد گی سے چیک کرائیں۔انہیں باہر کھلنے کے لئے بھیجیں اور مطالعہ اور الیکٹرا نک آلات کے استعمال کومحدودکریں۔دور کی نظر کم ہونے کو طبی اصطلاح میں myopia کہا جاتا ہے اس میں کچھ فاصلے سے اشیائ واضح سکھائی نہیں دیتیں اور جب یہ مسئلہ کسی کو ایک بار ہو جائے تو اس میں کمی کی بجائے اضافہ ہی ہوتا ہے۔کیونکہ روشنی آنکھ کے حساس ٹشو ریٹینا تک پہنچ نہیں پاتی جو آنکھ کے پیچھے ہوتا ہے۔ اس ک بجائے کر نیں ریٹینا کے سامنے مر کو ز رہتی ہیں جس سے دور کی اشیائ دھند لاپن ظاہر کرنے لگتی ہیں۔دور کی کم نظر ی پیدائشی بھی ہو سکتی ہیں تاہم عموماًبچپن سے شروع ہوتی ہے اور عمر کے ساتھ اس میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ایسے بالغ افراد جن میں ماضی میں کبھی اس کے اثرات نہیں تھے ،ان میں بھی یہ سامنے آسکتی ہے جسے گلاسز،کنٹیکٹ لنیز اور سرجری سے تھیک کیا جا سکتا ہے۔اگر دور کی نظر زیادہ شدید صورت حال اختیار کر جائے تو آنکھوںکے مسائل کے خطرے میں اضافہ ہو جاتا ہے۔اس وقت دنیا میں تقریبا دو ارب افراد کو یہ مسئلہ درپیش ہے کہ ان کی دور کی نظر خراب ہے۔
اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ لائیک اور شیئر کریں



































