بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

پاناما لیکس دستاویزات ٗمسلم لیگ (ن) کیلئے زیادہ مسائل پیدا نہیں ہوں گے ٗ قانونی ماہرین

datetime 5  اپریل‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) قانونی ماہرین نے کہاہے کہ پاناما انکشافات کے باجود پامانا پیپرز شریف خاندان یا دیگر لوگوں کے کسی غیر قانونی کام میں ملوث ہونے کو ثابت نہیں کرسکے ٗ آف شور کمپنیاں بنانا معمول کی بات ہے ۔سپریم کورٹ کے سینئر وکیل حسنین ابراہیم کاظمی کے مطابق آف شور کمپنیاں بنانا ایک معمول کی بات ہے اور مختلف بزنس مین آف شور کمپنیاں اسی لیے قائم کرتے ہیں تاکہ وہ دنیا کے کچھ مخصوص حصوں میں ٹیکس کی وصولی سے بچ سکیں ٗمثال کے طور پر خیبر پختونخواہ میں حطار اور بلوچستان میں گوادر ٹیکس فری زون بنائے گئے ہیں جوغیر ملکی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ کسی جگہ کوٹیکس فری کرنا بزنس بڑھانے کیلئے ہوتا ہے ٗبرطانوی حکومت نے ورجن آئس لینڈ کو ٹیکس فری کہا ہے تاکہ یہاں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جاسکے ۔عالمی قوانین کے ماہر احمر بلال صوفی نے بتایا کہ آف شور کمپنی رجسٹر کرنا جرم نہیں ہے بلکہ یہ ایک قانونی طریقہ ہے ٗ مسئلہ وہاں آتا ہے کہ یہ کمپنیاں کیسے کام کرتی ہیں۔اْنہوں نے کہا کہ اگر ان کے لین دین میں کہیں جرائم کی موجودگی کا سراغ ملتا ہے تو وہاں قانون اپنی کاروائی آگے بڑھائیگا اور اس معاملے کی تحقیقات کی جائیں گی۔فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پرنجی ٹی وی کو بتایا کہ پاکستان کا تقریباً ہر بزنس مین ٹیکس سے فرار چاہتا ہے اور اسی لیے ایک ٹیکس فری زون میں آف شور کمپنی بنا کر ٹیکس سے راہِ فرار اختیار کرنے کا یہی قانونی طریقہ موجود ہے۔انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ آف شور کمپنی کے ذریعے کالے دھن کو سفید دھن میں بدلنا ایک جرم ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…