بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

افغان علاقے میں طالبان اور داعش کے دہشتگردوں کی موجودگی ،پاکستانی حکام نے نئی حکمت عملی پر کام شروع کردیا

datetime 4  اپریل‬‮  2016 |

پشاور(نیوزڈیسک) افغان علاقے میں طالبان اور داعش کے دہشتگردوں کی موجودگی پر پاکستانی حکام نے نئی حکمت عملی پر کام شروع کردیا،کرم ایجنسی کی سرحد سے ملحقہ افغان علاقے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دولت اسلامیہ کے دہشتگردوں کی موجودگی پر تشویش میں مبتلا پاکستانی حکام نے خطرے سے نمٹنے کیلئے قبائلیوں کو متحرک کر دیا ۔نجی ٹی وی کے مطابق مقامی افراد نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز پارا چنار میں اپنی پوسٹوں سے سرحد پار دہشتگردوں کے خلاف بھاری گولہ باری کر رہی ہیں ¾ انتظامیہ نے علاقے کے رہائشیوں کوہدایت کی ہے کہ وہ رات کو چوکنا رہیں۔پارا چنار کے ایک رہائشی نے بتایا کہ پورے علاقے میں دہشت پھیل گئی ہے ذرائع نے بتایا کہ دولت اسلامیہ اور ٹی ٹی پی (سجنا گروپ) افغان صوبے پکتیا کے علاقے کیماتی میں اپنی پناہ گاہوں سے پاکستان میں کارروائیاں کرتے ہیں۔حال ہی میں پکتیا سے ملحقہ پاکستانی علاقوں بورکی اور کیرلاچی میں دوسیکیورٹی پوسٹوں پر حملہ کیا گیا۔داعش نے افغان صوبے ننگرہار کے کچھ اضلاع میں اپنا کنٹرول قائم کر لیا ¾پشاور میں ایک سیکیورٹی افسر نے کرم میں ایف سی کی چیک پوسٹوں پر حملے کی تصدیق کی۔بورکی کے ایک مقامی شخص کے مطابق حکام نے بتایا کہ دولت اسلامیہ اور ٹی ٹی پی جنگجو چیک پوسٹوں پر حملوں میں ملوث ہیں۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی ہدایت پر بورکی اور کیر لاچی میں لوگ پچھلے ایک مہینے سے رات کو چوکنا رہ رہے ہیں۔’محتاط رہنے کے علاوہ علاقے کے عمائدین نے اظہار یک جہتی کیلئے پیرا ملٹری فورسز کو چاربھاری مشین گنز اور گولہ بارود دیا ہے۔ذرائع کے مطابق، کرم ملیشیا کے کمانڈنٹ اور نائب پولیٹیکل ایجنٹ نے خطرے کے خلاف مقامی لوگوں کو متحرک کرنے کیلئے گزشتہ روز پارا چنار کے قریب توری، بنگش اور منگل قبائل کے عمائدین سے ملاقات بھی کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…