بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

خبردار ۔۔۔۔ ۔جھوٹ کا عالمی دن کل منایا جارہا ہے

datetime 31  مارچ‬‮  2016 |

لاہور ( نیوز ڈیسک) پاکستان سمیت دنیا بھر میں کل یکم اپریل کو جھوٹ بولنے کا دن ” اپریل فول “ منایا جائے گا ۔اس روز دوستوں، عزیز رشتہ داروں اور پڑوسیوں کی جانب سے آنے والی کسی بھی اطلاع، موبائل کال یا خبر پر یقین کرنے سے پہلے اس کی تحقیق کر لی جائے کیونکہ غیر سنجیدہ لوگوں کی جھوٹی حرکت سے آپ کو شرمندگی اور نقصان پہنچنے کا اندیشہ بھی ہے۔ اپریل فول کی ابتدا ءیورپ سے ہوئی جس کو 1539 ءمیں عروج حاصل ہوا اور بعد میں اس نے تہوار کی شکل اختیار کر لی۔ سولہویں صدی کے آخر تک نیا سال مارچ کے آخر میں شروع ہوتا تھا۔ نئے سال کی آمد پر لوگ تحائف کا تبادلہ کرتے تھے۔ فرانس کے بادشاہ نے جب کیلنڈر کی تبدیلی کا حکم دیا کہ نیا سال مارچ کی بجائے جنوری سے شروع ہوا کرے تو غیر ترقی یافتہ ذرائع ابلاغ کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو اس تبدیلی کا علم نہ ہو سکا اور وہ بدستور یکم اپریل کو ہی نئے سال کی تقاریب مناتے رہے اور باہم تحائف کا تبادلہ بھی جاری رہا۔ اسی بنا ئپر ان لوگوں نے ان کا مذاق اڑایا جنھیں اس تبدیلی کا علم تھا اور انہیں اپریل فول کے طنزیہ نام سے پکارنے لگے۔ آہستہ آہستہ یہ روایت بن گیا اور اب دنیا بھر میں یہ دن باقاعدگی سے منایا جاتا ہے۔ ایک دوسری روایت کے مطابق قدیم رومی قوم موسم بہار کی آمد پر شراب کے دیوتا کی پرستش کرتی اور اسے خوش کرنے کیلئے لوگ شراب پی کر اوٹ پٹانگ حرکتیں کرنے کیلئے جھوٹ کا سہارا لیتے تھے۔ یہ جھوٹ رفتہ رفتہ اپریل فول کا ایک اہم حصہ بن گیا۔ انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا نے اس کی تاریخی حیثیت پر مختلف انداز سے روشنی ڈالی ہے۔ بعض مصنفین کا کہنا ہے کہ فرانس میں سترہویں صدی کا آغاز جنوری کے بجائے اپریل سے ہوا کرتا تھا۔ اس مہینے کو رومی اپنی دیوی وینس کی طرف منسوب کر کے مقدس سمجھا کرتے تھے۔ چونکہ یہ سال کا پہلا دن ہوتا تھا اس لئے خوشی میں اس دن کو جشن کے طور پر منایا کرتے تھے اور اظہار خوشی کے لئے آپس میں مذاق کیا کرتے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…