بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

سپریم کورٹ میں حلقہ پی بی 27کی سماعت، لیگی رہنما اظہار کھوسو کو کامیاب قرار دینے کا فیصلہ برقرار

datetime 29  مارچ‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) سپریم کورٹ نے بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 27 کے انتخابی عذرداری سے متعلق مقدمہ میں مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی اظہار کھوسو کو کامیاب قرار دینے کے فیصلے کوبرقراررکھتے ہوئے دوبارہ انتخابات کرانے کیلئے مخالف امیدوارکی درخواست خارج کردی پیرکوچیف جسٹس ا نورظہیرجمالی کی سربراہی میں جسٹس اقبال حمید الرحمن اورجسٹس سردارطارق مسعود پرمشتمل تین رکنی بینچ نے مخالف امیدوار دران خان کی جانب سے الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف دائر درخواست کی سماعت کی۔ 2013 ءکے الیکشن میں اسی حلقے سے اظہار کھوسو کامیاب ہوئے تومخالف امیدواردران خان نے مختلف الزامات کی بنیادپر الیکشن ٹریبونل میں ان کی کامیابی کوچیلنج کیا تاہم ٹریبونل نے دران خان کی پٹیشن خارج کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی کہ اظہار کھوسو کی کامیابی کانوٹیفیکیشن جاری کیاجائے جس پر الیکشن کمیشن نے 28 مئی کواظہارکھوسوکی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کیا جس کیخلاف دران خان نے سپریم کورٹ میں دارخواست دائرکی۔ سماعت کے دوران درخواست گزارکے وکیل ایڈووکیٹ امان ا للہ نے عدالت کے روبروموقف اپنایاکہ ٹریبونل نے ان کی درخواست میرٹ کے بجائے تکنیکی بنیادوں پر خارج کی تھی اسلئے میری استدعاہے کہ کیس دوبارہ ٹربیونل کو سماعت کےلئے بھجوایا جائے۔ عدالت کواظہارکھوسو کے وکیل کامران مرتضیٰ نے بتایاکہ مخالف امیدوارنے ٹریبونل میں تصدیق کے بغیر دستاویزات داخل کرائی تھی جس میں بیان حلفی تک موجود نہیں تھا عدالت کے ا ستفسارپرایڈووکیٹ امان اللہ نے بتایاکہ انہوں نے ٹریبونل میں بیان حلفی سمیت تصدیق شدہ کاغذات جمع کرانے کے علاوہ الیکشن کمیشن میں دوسری درخواست ہے، میری استدعاہے مجھے مہلت دی جائے ¾میں آئندہ سماعت پر دستاویزات عدالت کوپیش کردوں گا۔ کامران مرتضیٰ نے کہاکہ مخالف فریق نے الیکشن کمیشن میں گواہان کی فہرست بھی جمع نہیں کرائی اسلئے میری استدعاکہ ا ن کی درخواست کوخارج کیاجائے جس پرعدالت نے اظہارکھوسہ کی کامیابی کے فیصلہ کوبرقراررکھتے ہوئے مخالف امیدوارکی دوبارہ ا لیکشن کیلئے دائردرخواست خارج کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…