بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

سانحہ گلشن اقبال ،سرچ آپریشن میں 5دہشتگرد ہلاک ،400سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ،اسلحہ، اشتعال انگیز لٹریچر اور بارودی مواد بھی برآمد

datetime 29  مارچ‬‮  2016 |

لاہور (نیوز ڈیسک) سانحہ گلشن اقبال پارک کے بعد پنجاب بھر میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشتگردوں اور ان کے معاونین کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے اورصوبے بھر میں جاری سرچ آپریشن میں 5دہشت گرد ہلاک جبکہ 400سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا جبکہ رینجرز اور حساس ادارے کے اہلکاروں نے لاہور میں کارروائی کرتے ہوئے سانحہ گلشن اقبال پارک کے 3مبینہ سہولت کاروں کو حراست میں لے کر ان کے قبضے سے اہم دستاویزات برآمد کرلیں ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے زیرصدارت اہم اجلاس میں پنجاب بھر میں دہشت گردوں کےخلاف مشترکہ آپریشنز کے فیصلے کے بعد صوبے بھر میں بھرپور آپریشن جاری ہے۔سکیورٹی فورسزکی جانب سے مظفر گڑھ میں 3دہشت گرد جبکہ راجن پور میں 2دہشتگرد جھڑپ کے دوران مارے گئے۔ سیالکوٹ میں آپریشن کے نتیجے میں 68غیرملکیوں سمیت 200سے زائد افراد گرفتارکیے گئے، گرفتارافراد کا تعلق جنوبی پنجاب اورافغانستان سے ہے، اس کے علاوہ گوجرانوالہ سے 100، بہاولنگر سے 40،رحیم یار خان سے 34، راجن پور سے 25جبکہ بہاولپور، احمد پور شرقیہ، خیر پور ٹامیوالی اور اوچ شریف سے 16مشتبہ افراد گرفتار کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد کے قبضے سے اسلحہ، اشتعال انگیز لٹریچر اور بارودی مواد بھی برآمد ہوا ہے، ان تمام افراد کو تحقیقات کے لیے نامعلوم جگہ پر منتقل کردیا گیا ہے۔رینجرز اور حساس ادارے کے اہلکاروں نے لاہور کے علاقہ راج گڑھ میں کارروائی کرتے ہوئے سانحہ گلشن اقبال پارک کے 3مبینہ سہولت کاروں کو حراست میں لے کر ان کے قبضے سے اہم دستاویزات برآمد کرلیں ۔ذرائع کے مطابق سانحہ گلشن اقبال کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردوں کے خلاف سرگرمیاں تیز کردی ہیں ۔ راج گڑھ میں رینجرز اور حساس ادارے کے اہلکاروں نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے 3ملزمان کو حراست میں لے لیا۔ تینوں ملزمان کو نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تینوں ملزمان گلشن اقبال پارک میں ہونے والے خودکش دھماکے میں ملوث اور دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں، ملزمان کے قبضے سے اہم دستاویزات بھی برآمد ہوئی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…