بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

پنجاب میں دہشتگردی کی نرسریاں ہیں ،دہشتگرد ہمیں مایوسی کا شکار بنانا چاہتے ہیں ،سید خورشید شاہ

datetime 29  مارچ‬‮  2016 |

سکھر (نیوز ڈیسک)قائد حزب اختلاف اور پیپلزپارٹی کے سنیئر رہنما سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ پنجاب میں دہشتگردی کی نرسریاں ہیں ،دہشتگرد ہمیں مایوسی کا شکار بنانا چاہتے ہیں ،دہشتگردی کے معاملے پر ہم حکومت سے نہ کوئی مطالبہ کررہے ہیں نہ ہی سیاست کرنا چاہتے ہیں۔سکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ سیاستدانوں اور عسکری قیادت کا ایک پیج پر نہ ہونے کی باتیں موجودہ حالات میں نہ کی جائیں۔ دہشتگردی کے معاملے پر ہم حکومت سے نہ کوئی مطالبہ کررہے ہیں نہ ہی سیاست کرنا چاہتے ہیں۔اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا کہ وہ اپنی بات پر قائم ہیں کہ پنجاب میں دہشتگردوں کی نرسریاں ہیں ،پنجاب میں آپریشن ہونا اچھی بات ہے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ وہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بارہا کہ چکے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان پر جامع عمل نہیں ہورہا ہے۔قبل ازیں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس دریا کے بائیں جانب دھان کی فصل پر بندش کے سبب گندم کی فی ایکڑ پیدوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، اس لئے فوڈ اور ریوینیو افسران اسی جذبے کے ساتھ بار دانے کی تقسیم صاف اور شفاف طریقے سے کریں اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی بردداشت نہیں کی جائیگی اور شکایت موصول ہونے کی صورت میں سخت قانونی کارروائی کی جائیگی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر خوراک سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ آباد کاروں کی شکایت پر سکھر ضلع میں بار دانے کے ہدف کو بڑھایا گیا ، فوڈ افسران اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے بار دانے کی صاف وشفاف تقسیم کو یقینی بنائیں ،بار دانے کی شفاف تقسیم کی نگرانی کی جائیگی اور جزا و سزا کے عمل پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ باردانے کی شفاف تقسیم کو یقینی بنانے کیلئے سرویلینس کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں، فوڈ انسپکٹر اور ریوینیو افسران بار دانے کی منصفانہ تقسیم کے سلسلے میں کوئی دباؤ قبول نہ کریں۔ انہوں نے بتایا کہ رواں برس کیلئے اب تک سکھر ضلع کیلئے 3 لاکھ 60 ہزار بار دانے کی بوریاں موصول ہو چکی ہیں ،یکم اپریل تک بار دانہ پہنچنے کا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…