بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

پی آئی اے کا انتظامی کنٹرول سٹرٹیجک پارٹنر کے حوالے نہیں کیا جائےگا ، اسحاق ڈارکی خصوصی کمیٹی کو یقین دہانی

datetime 29  مارچ‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں زیر غور آنے والے بلوں کے حوالے سے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کو یقین دہانی کرائی ہے کہ پی آئی اے کا انتظامی کنٹرول سٹرٹیجک پارٹنر کے حوالے نہیں کیا جائےگا، ملازمین کی ملازمت کو مکمل تحفظ دیا جائےگا ¾پی آئی اے کے ہوٹل فروخت کریں گے نہ ہی 26 فیصد حصص بیچیں گے جبکہ اپوزیشن نے کہا ہے کہ کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں حکومت ان سفارشات کو ترامیم کی صورت میں پیش کرے تو بل کا شق وار جائزہ لینے کےلئے تیار ہیں۔ منگل کو کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاﺅس میں کمیٹی کے چیئرمین زاہد حامد کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار سمیت کمیٹی کے ارکان سید نوید قمر، سعید غنی، عبدالوسیم ، اسد عمر، مشاہد اللہ خان، نعیمہ کشور خان، مولانا عطاءالرحمن، سینیٹر حاصل بزنجو سمیت وزارت قانون اور متعلقہ اداروں کے افسران نے شرکت کی۔ پی آئی اے کو لمیٹڈ کمپنی بنانے کے حوالے سے بل پر بریفنگ دیتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پی آئی اے کو کمپنی بنانا حکومتی ایجنڈے کا حصہ ہے ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پی آئی اے کو 9 ماہ میں 7 ارب 75 کروڑ کا نقصان ہوا ہے۔ 30 جون تک پی آئی اے کو 22 ارب روپے درکار ہیں ، پی آئی اے کے اثاثوں کی کل مالیت 150 ارب روپے ہے ،پی آئی اے ملازمین کی ملازمت کو مکمل تحفظ دیا جائےگا اس ادارے کو بہتر بنانے کےلئے سٹرٹیجک پارٹنر شپ کرنا چاہتے ہیں۔ پی آئی اے کے ہوٹل فروخت کریں گے نہ ہی 26 فیصد حصص بیچیں گے ،پی آئی اے کا بل منظور ہوگیا تو پی آئی اے کا کور بزنس پاکستان ایئر ویز کو منتقل کریں گے ،اس کے علاوہ کوئی بھی چیز نئی کمپنی کو منتقل نہیں کی جائےگی۔ پی آئی اے کی مینجمنٹ کسی بھی صورت سٹرٹیجک پارٹنر کے حوالے نہیں کی جائےگی انہوں نے کہا کہ کوئی سٹرٹیجک پارٹنر نہ آیا تو پی آئی اے کو ہی بہتر کریں گے۔ پی آئی اے بل کی منظوری کے بعد پی آئی اے کے امور کی نگرانی کےلئے پارلیمنٹ کمیٹی بنانا چاہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ کمیٹی کے رکن اسد عمر نے کہا کہ پی آئی اے کا انتظامی کنٹرول اگر کسی کو نہ دیا گیا تو بل کی مخالفت نہیں کریں گے اس پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پی آئی اے کا انتظامی کنٹرول کسی سٹرٹیجک پارٹنر کے حوالے کرکے ماضی کی غلطی نہیں دہرائیں گے۔ ایم کیو ایم کے رکن عبدالوسیم نے کمیٹی میں پی آئی اے یونین کے نمائندوں کو بھی بلانے کا مطالبہ کیا جس پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پی آئی اے ملازمین کو ملازمت کا مکمل تحفظ دیا جائےگا جس پر کمیٹی میں موجود اپوزیشن ارکان نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے بل کے حوالے سے انتظامی کنٹرول کسی کو نہ دینے کے حوالے سے ترمیم شامل کی جائے تو بل کا شق وار جائزہ لے لیتے ہیں۔ کمیٹی میں دیگر بلوں کے حوالے سے بھی غور کیا گیا۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ارکان نے عزت کے نام پر قتل اور زنا بالجبر کے حوالے سے اپنی جماعت کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے مزید مشاورت کےلئے وقت مانگتے ہوئے کہا کہ وہ کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں ان دونوں بلوں کے حوالے سے اپنی رائے پیش کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…