بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

مظفرآباد کے دیگر پہاڑوں سے عجیب قسم کی گیس نکلنے لگی آس پاس کے علاقے کی رنگت تبدیل سبز رنگ غائب

datetime 23  مارچ‬‮  2016 |

مظفرآباد(نیوز ڈیسک)دارالحکومت مظفرآباد کے دیگر پہاڑوں سے عجیب قسم کی گیس نکلنے لگی آس پاس کے علاقے کی رنگت تبدیل سبز رنگ غائب جانور بھی اس طرف کا رخ نہیں کرتے۔ بزرگوں کے مطابق شاید اس زمین تلے لاوا ابل رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق دارالحکومت مظفرآباد کے مختلف پہاڑی علاقے جن کے آس پاس سے بڑی مقدار میں کوئلہ اور دیگر معدنیات کی نکاسی ہوتی تھیں اب ان مقامات سے عجیب قسم کی گیس نکل رہی ہے اس گیس کی وجہ سے آس پاس کے رہائشی علاقوں میں مقیم افراد کی آنکھوں میں جلن ،تکلیف اور روشنی کم ہونے جیسے واقعات رونما ہورہے ہیں۔قابل غور بات یہ ہے کہ بارش اور سردی کے باوجود ان علاقوں میں سبز کھاس نہیں اگتی اور نہ اس طرف کوئی جانور چرانے لے جاتے ہیں بزرگوں کے مطابق ان علاقوں میں نیچے لاوا ہے جس کی وجہ سے علاقے سر سبز نہیں البتہ جلے ہوئے نظر آتے ہیں۔8اکتوبر 2005کے زلزلے کے دوران ماہرین نے انکشاف بھی کیا تھا کہ ماکڑی ، چہلہ بانڈی، شوائی، کامسر، چھلپانی سمیت دیگر بڑے پہاڑوں کے نیچے لاوا ہے اگر یہ پھٹ گیا تو کافی جانی نقصان ہو سکتان ہے اس کے باوجود ضلعی انتظامیہ اور ایم ڈی اے کی ملی بھگت سے لوگوں نے ناجائز تجاوزات کی بھر مار کر دی جو خود موت کے منہ میں جانے کی دعوت ہے حکومت اور ضلعی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ ان علاقوں کی ایک سروے کروائے تاکہ لوگ محفوظ مقام تک رسائی حاصل کر سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…