بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

سندھ پولیس نے بھی کراچی آپریشن پر ضربیں لگانا شروع کردیں،رینجرز کی پولیس کےخلاف محکمہ داخلہ سے شکایت

datetime 22  مارچ‬‮  2016 |

کراچی(نیوز ڈیسک) سندھ حکومت کے بعد سندھ پولیس نے بھی کراچی آپریشن پر ضربیں لگانا شروع کردی ہیں۔ 26اہم اور خطرناک ملزموں کی جے آئی ٹیز میں روڑے اٹکانے پر رینجرز نے محکمہ داخلہ سے شکایت کی ہے محکمہ داخلہ نے ایس ایس پیز کوجے آئی ٹیز فوری طور پر مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔تفصیلات کے مطابق سندھ پولیس نے آپریشن کے دوران گرفتار ہونے والے 26 خطرناک ملزموں کی جے آئی ٹیز میں روڑے اٹکانے شروع کر دیئے ہیں ۔دستاویزات کے مطابق ایس ایس پی انوسٹی گیشن ساﺅتھ ون اور ٹو عزیر بلوچ، عدنان عرف اے ڈی، سلیم دیدگ اور سعید بلوچ سمیت 16 ملزموں کی مشترکہ تفتیشیں مکمل نہیں کر رہے ہیں۔ایس ایس پی انوسٹی گیشن ویسٹ ون اور ایس ایس پی انوسٹی گیشن ویسٹ ٹوخرم موٹا نائن زیرو کے سیکیورٹی انچارج منہاج قاضی اور مقصود عرف بھولا بچا سمیت 5 خطرناک ملزموں کی جے آئی ٹیز کرانے سے کترا رہے ہیں۔ایس ایس پی ایسٹ اور ایس ایس پی کورنگی ناصر مچھڑ اور محسن عرف لمبا سمیت 5ملزموں کی مشترکہ تفتیشوں میں تاخیر کا باعث ہیں۔رینجرز کی جانب سے جے آئی ٹیز میں تاخیر کی شکایت محکمہ داخلہ سندھ سے کی گئی تو محکمہ داخلہ نے سندھ پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی سندھ سے کہا کہ جے آئی ٹیز میں غیر ضروری تاخیر سندھ حکومت کے لیئے قانونی پیچیدگیاں پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہیں لہذا جے آئی ٹیز مکمل کر کے رپورٹ فوری طور پر ارسال کی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…