بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

کراچی 10، تھانوں کی حدود میں سب سے زیادہ اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں ریکارڈ کی گئی،فیروزآبادتھانہ سرفہرست

datetime 16  مارچ‬‮  2016 |

کراچی(نیوز ڈیسک) کراچی میں اسٹریٹ کرائم کا جن بے قابو ہو گیا، شہر قائد کے 10 تھانوں کی حدود میں سب سے زیادہ اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں ریکارڈ کی گئی ہیں جن میں سرفہرست فیروز آباد تھانہ ہے۔شہر قائد کا عام شہری اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں سے متاثر ہے۔ مسلح ملزمان شہر قائد کی مختلف شاہراہوں پر دندناتے پھر رہے ہیں، ملزمان کسی بھی شاہراہ پر شہریوں کو روکتے ہیں، چھینا جھپٹی کرتے ہیں اور فرار بھی ہو جاتے ہیں۔ شہر قائد کے دس تھانوں کی حدود میں سب سے زیادہ اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔فیروز آباد اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں پہلی پوزیشن پر آ گیا جہاں رواں سال 1 ہزار 461 موبائل فونز چھینے گئے ہیں۔ شاہراہ فیصل دوسرے، گلشن اقبال تیسرے اور کورنگی انڈسٹریل ایریا چوتھے نمبر پر ہے۔ عزیر بھٹی، تیموریہ، نیو ٹاو ¿ن تھانوں کی حدود میں بھی سب سے زیادہ اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔عزیز آباد، نارتھ ناظم آباد اور سچل تھانوں کی حدود میں بھی اسٹریٹ کرائم ایک اہم مسئلہ ہے۔ گلشن اقبال اور کورنگی انڈسٹریل ایریا میں 11 سو 31 موبائل فونز چھینے گئے ہیں۔ عزیز بھٹی، تیموریہ، نیو ٹاو ¿ن میں 8 سو 71 موبائل فونز چھیننے کی وارداتیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔پولیس حکام کا دعوی ہے کہ ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کی طرح بہت جلد اسٹریٹ کرائم کا بے قابو جن بھی بوتل میں بند ہو جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…