بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

دہشتگردی کے خاتمے کیلئے سانحہ اے پی ایس اورچارسدہ کے ذ مہ داروں کا تعین ضروری ہے ، اسفند یار ولی

datetime 16  مارچ‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے کہا ہے کہ اے پی ایس سکول پشاور اور باچا خان یونیورسٹی چارسدہ کے واقعات پر جوڈیشنل کمیشن قائم کر کے ذمہ داران کا تعین کر لیا جاتا تو دہشت گردوں کا نیٹ ورک کمزور کیا جا سکتا تھا۔لگتا یہ ہے کہ دہشت گردوں کے سرپرستوں کو بچانے کےلئے جوڈیشنل کمیشن قائم نہیں کیا جا رہا ۔اسفند یا ولی خان نے پشاور میں سرکاری ملازمین کی بس میںبم دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبہ خیبر پختون خواہ موجودہ صوبائی حکومت کے دور میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔اتحادی حکومت میں شریک جماعتیں بندر بانٹ میں مصروف ہیں اور صوبے کو دہشت گردوں کے حوالے کر دیا ہے۔اب تو صوبائی وزراءاور ممبران صوبائی ا سمبلی دہشت گردوں کو باقاعدہ بھتا دے رہے ہیں جس کی وجہ سے انتظامیہ اور پولیس کمزور ہو رہی ہے اور پولیس کا مورال ڈاﺅن ہونے کی وجہ سے دہشت گرد آذادانہ کاروائیاں کر رہے ہیں۔اے این پی کے ترجمان اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد خان کی طرف سے جاری کردہ بیان میں اسفند یار ولی خان نے مزید کہا کہ صوبہ خیبر پختون خواہ کے شہری علاقوں میں مخصوص ذہنیت کے خلاف سخت کاروائیوں کے بغیردہشت گردوں کی پیداواری فیکٹریوں کا خاتمہ ممکن نہیں ۔وفاقی اور صوبائی حکومت نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عمل کرے تو ملک بھر اور با لخصوص خیبر پختون خواہ میں امن قائم ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ اے این پی کی قیادت اور کارکنوں نے پاکستان کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کےلئے قربانیاں دیں اور تمام تر ہتھ کنڈوں کے باوجود اے این پی نے عوام کو اکیلا نہ چھوڑا اور دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خلاف کامیاب آپریشن کئے گئے۔اے این پی کے صدر اسفند یار ولی خان نے کہا کہ صوبائی حکومت کا بادشاہ بنی گالہ سے اپنے غلاموں پر حکم چلا رہا ہے اور جماعت اسلامی کے امیر صوبہ کی حالت پر توجہ دینے کی بجائے منصورہ لاہور میں ذاتی تشہیر پر وقت ضائع کر کے دہشت گردوں کا مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔اسفند یار ولی خان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ قوم اور قومی قیادت دہشت گردوی کے خاتمے کےلئے متحد ہے لیکن چند عناصر کی وجہ سے مکمل کامیابی کا حصول مشکل ہے ۔قوم ملک و ملت دشمنوں کے خلاف اٹھ کھڑی ہو ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…