بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

پاکستان کو قدرتی آفات کا خطرہ تیزی سے بڑھنے لگا، چیئرمین این ڈی ایم اے

datetime 15  مارچ‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) پاکستان کو قدرتی آفات کا خطرہ تیزی سے بڑھ گیا دسمبر 2015میں فرانس میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس پر انکشاف کیا گیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں آنے والی قدرتی آفات دنیا کے جن ممالک میں آئیں گی ان میں پاکستان چھٹے نمبر پر آگیا ہے جبکہ مارچ 2016میں یہ بری خبر آئی ہے کہ پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ قدرتی آفات کا شکار ہونے والے ممالک کی صف میں چھٹے نمبر کے بجائے چوتھے نمبر پر آگیا ہے ۔ کراچی میں گزشتہ سال شدید گرمی کی لہر 12سو جانوں کو موت کی نیند سلا گئی۔ رواں سال میں بھی قدرتی آفات کا خطرہ سنگین صورت اختیار کرگیاہے۔سمندر کی طرف آفات آنے کا بڑا اندیشہ ہے ۔گلیشیئر پگھلنے سے چترال میں اچانک خوفناک سیلاب آیا تو سینکڑوں جانوں کو ہڑپ کرگیا۔ موجودہ اور آنے والے سالوں میں موسمیاتی تبدیلیوں میں پاکستان میں نقصان ہوگا یہ اہم انکشافات نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے)کے چیئرمین میجر جنرل اصغر نوازنے فرانسیسی سفیر کی طرف سے موسمیاتی تغیر و تبدل اور بین الاقوامی یوم نسواں کے حوالے سے اپنی رہائش گاہ پر منعقدہ کانفرنس کے موقع پر خطاب میں کیا ۔ فرانسیسی سفیر نے کہا کہ پاکستان میں عورتوں کے حقوق کا تحفظ ہو رہا ہے۔ عورتوں کی آبادی 52 فیصد ہے مگر قدرتی آفات سے مرنے والوں میں 75فیصد خواتین ہوتی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹرشیری رحمٰن جو کہ سابق وزیر اطلاعات و نشریات بھی ہیں نے عالمی یوم خواتین اور موسمیاتی تبدیلیوں کے عالمی دن کے موقع پر کانفرنس کے انعقاد کرنے پر فرانسیسی خاتون سفیر کی کاوشوں کو سراہا ۔ شیری رحمن نے موضوع کے اعتبار سے جامع اور طویل دورانیے کی تقریر کی جبکہ فرانسیسی سفیر نے کانفرنس کے خدو خال اور فرانس میں حکومت کے کردار پر روشنی ڈالی جو وہ خواتین کے حقوق کے فروغ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے خطے پر پڑنے والے برُے ا ثرات کو روکنے کے لئے اداکر رہی ہے۔جنگ رپورٹر حنیف خالد کے مطابق محکمہ موسمیات پاکستان کے سربراہ نے گزشتہ اور آنے والے سالوں میں پاکستان میں پانی کی شدید قلت، بڑے پیمانے پر سیلاب آنے، شدید گرمی سے اموات کے بارے میں ہیجان انگیز اعدادو شمار کانفرنس کے شرکاء کو بتائے۔ کانفرنس میں ارکان پارلیمنٹ کے علاوہ بڑی تعداد میں معروف خواتین نے شرکت کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…