جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

لاہورمیں 14سالہ لڑکی سے زیادتی کیس ،لڑکی عدنان ثناءاللہ سے ملنے کےلئے گھرسے کیابہانہ بناکرنکلی ،معاملہ سامنے آگیا

datetime 13  جنوری‬‮  2016 |

لاہور( این این آئی) مبینہ اجتماعی زیادتی کیس میں 14سالہ متاثرہ لڑکی نے عدالت کے سامنے بیان ریکارڈ کروا تے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ اس کا مرکزی ملزم عدنان ثناءاللہ سے رابطہ تھا ،سالگرہ کا تحفہ دینے کے لئے بلایا اور نشہ آور مشروب پلا کر ساتھی کے ساتھ مل کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا ۔اس موقع پرزیادتی کیس میں نامزد ملزم بلاول کے وکیل محمد یونس اعوان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ لڑکی نے عدالت میں بیان دیا ہے کہ اسے کسی نے اغواءنہیں کیا تھا وہ اپنے مرضی سے گئی تھی اور اپنے گھر والدہ کو کہہ کر گئی تھی کہ میں درزن کے پاس جا رہی ہوں ۔ جبکہ وہ اپنی سالگرہ کا تحفہ لینے گئی تھی ۔ لڑکی کے اس بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ اغواءکرنے کا الزم جھوٹا ہے ۔ گزشتہ روز لاہور میں مبینہ اجتماعی زیادتی کیس میں متاثرہ لڑکی نے کینٹ کچہری میں جوڈیشل مجسٹریٹ تابندہ بتول کے سامنے اپنا بیان قلمبند کروایا ۔متاثرہ لڑکی نے اعتراف کیا کہ اس کا مرکزی ملزم عدنان ثنااللہ سے موبائل فون پر رابطہ تھا اورایک دن اس نے سالگرہ کا تحفہ دینے کے لئے بلایا اورراستے سے شراب کی بوتل خریدی جبکہ ہوٹل میں مشروب میں کوئی نشہ آور چیز ملا کر اے پلا دی اور اپنے ساتھی کے ساتھ مل کر اسے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا ۔متاثرہ لڑکی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بیان میںعدنان ثنا اللہ اور ماجد کا نام لیا ہے جبکہ اس کے باقی دوست وہاں موجود تھے۔دوسری جانب متاثرہ لڑکی کی والدہ کا کہنا تھا کہ ہمارے ساتھ ظلم ہوا ہے، ہمیں انصاف چاہیے اور ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچا کر ہی دم لیں گے۔جبکہ لڑکی کے بہنوئی کا کہنا تھا کہ مرکزی ملزم عدنان ثناءاللہ اور عبدالماجد ہیں ، عبدالماجد کی گاڑی سے لڑکی کو برآمد کیا تھا ، وزیر اعلیٰ پنجاب سے اپیل ہے کہ ملزمان بااثر افراد ہیں ہمیں تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے ۔ سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے متاثرہ لڑکی کے وکیل میاں ابرار نے کہا کہ متاثرہ لڑکی نے بیان میں کہا ہے کہ عدنان سے فون پر کبھی کبھار روابطہ ہوتا تھا ، عدنان ثناءاللہ لڑکی کو سالگرہ کا تحفہ دینے کے بہانے اپنے ساتھ لے گیا ، لڑکی نے عبدالماجد اور عدنان کے علاوہ دیگر ملزمان کے حوالے سے بیان نہیں دیا ۔ جبکہ کیس میں نامزد ملزم بلاول کے وکیل محمد یونس اعوان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ لڑکی نے عدالت میں بیان دیا ہے کہ اسے کسی نے اغواءنہیں کیا تھا وہ اپنے مرضی سے گئی تھی اور اپنے گھر والدہ کو کہہ کر گئی تھی کہ میں درزن کے پاس جا رہی ہوں ۔ جبکہ وہ اپنی سالگرہ کا تحفہ لینے گئی تھی ۔ لڑکی کے اس بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ اغواءکرنے کا الزم جھوٹا ہے ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…