جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

ملکی وغیرملکی تجزیہ کاروں کی طرف سے مودی کے دورہ پاکستان کا خیرمقدم

datetime 27  دسمبر‬‮  2015 |

واشنگٹن(نیوزڈیسک)بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ لاہور کوملکی و غیرملکی مبصرین اور تجزیہ کاروں نے جنوبی ایشیا کے مستقبل کے لئے خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ اس سے پاک بھارت کشیدگی میں کمی آئے گی اور خطہ خوشحالی کی جانب گامزن ہوگا۔غیرملکی میڈیاسے بات چیت کرتے ہوئے واشنگٹن میں معروف اسکالر اور جنوبی ایشیائی امور کے ماہر، مڈل ایسٹ انسٹیٹوٹ کے پروفیسر ڈاکٹر وائین بام نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ لاہور کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے خوشگوار پیش رفت قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ کی کشیدہ صورتحال میں اعلیٰ ترین سطح پر پاک بھارت رابطے کی بحالی خطے کے مستقبل کے خد و خال کے تعین میں مدد دے گی۔ انھوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدام کی سخت ضرورت تھی، کیونکہ ماضی میں دو طرفہ بیان بازی نے غلط فہمیوں کو فروغ دیا۔ڈاکٹر وائین بام کا کہنا تھا کہ مودی کے بارے میں پاکستان میں یہ تاثر ہے کہ وہ مسلمان مخالف رہنما ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ اس دورے سے یہ تاثر بھی کم ہوگا۔انھوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ حالیہ اقدامات لائن آف کنڑول پر کشیدگی کے خاتمے کے ساتھ باہمی تجارت کے فروغ کا ذریعہ بھی بنیں گے جس سے خطے میں خوشحالی آئے گی۔ انھوں نے کہا کہ اگر بھارت پاکستان کو قائل کرسکے کہ افغانستان میں اس کی موجودگی پاکستان کےخلاف نہیں تو یہ بات خطے کے لئے خوش آئند ہوگی۔اس سوال پر کہ حالیہ پاک بھارت رابطے پر امریکہ کا ردعمل کیا ہوگا، ڈاکٹر وائین بام کا کہنا تھا کہ امریکہ یقیناً اس عمل کی حوصلہ افزائی کرے گا، کیونکہ خطے میں امن امریکہ کے مفاد میں ہے۔ وہ ہمیشہ کہتا رہا ہے کہ دونوں ممالک اپنے معاملات باہمی بات چیت کے ذریعے حل کریں۔ اس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی مدد ملے گی اور اعتماد سازی کے عمل کو بھی فائدہ پہنچے گا۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق مستقل مندوب اور تجزیہ کار مسعود خان نے نریندر مودی کے اس دورے کو غیر متوقع لیکن خوشگوار قرار دیا۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ایک مشکل دور سے گزر رہے تھے۔ تمام رابطے منقطع ہو چکے تھے، پاکستان اقوام متحدہ میں چلا گیا تھا اور رابطے تیسرے ممالک کے ذریعہ ہو رہے تھے۔ ایسے میں نریندر مودی کا دورہ بہت اہم ہے۔مسعود خان نے کہا کہ اگرچہ یہ ملاقات غیر رسمی تھی تاہم ان کا کہنا تھا کہ آئندہ ماہ شروع ہونے والے باضابطہ مذاکراتی عمل پر اس کے خوشگوار اثرات مرتب کرے گی۔انہوں نے کہا کہ پاک بھارت مذاکرات کی تاریخ کوئی حوصلہ افزا نہیں ہے۔ جب کبھی بات چیت شروع ہوتی ہے کہیں نہ کہیں رکاوٹ کھڑی ہوجاتی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تاریخ سے کچھ سیکھا نہ جائے۔ ہمیں توقع رکھنی چاہئے کہ اگلے ماہ جو 10 نکاتی ایجنڈے پر بات چیت کا آغاز ہوگا وہ معنی خیز ہوگا۔واشنگٹن میں معروف اسکالر ڈاکٹر زاہد بخاری نے کہا کہ دونوں ممالک میں بعض قوتیں ایسی ضرور ہوں گی جو اس پیش رفت کی مخالفت کریں گی۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ یہ مخالفت ایک دباو¿ بھی پیدا کرے گی تاکہ بات چیت بامعنی ہو سکے۔ انھوں نے کہا کہ دونوں جانب سے اپنے اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کی باتیں کی جاتی ہیں۔ ان کا ماننا تھا کہ یہ سول سوسائٹی کا دباﺅ ہوگا جس سے حقیقی تنازعے کو حل کرنے کی جانب پیش رفت کی جائے۔ڈاکٹر زاہد بخاری کا کہنا تھا کہ یہ بی جے پی ‘بھارتیہ جنتا پارٹی’ جیسی جماعت ہی میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ دیرینہ تنازعے پر قابل عمل موقف اپنائے اور تعلقات کی بحالی میں اپنا کردار ادا کرسکے۔عرب نیوز سے وابستہ معروف صحافی سراج وہاب نے کہا کہ پاک بھارت تعلقات کی بحالی میں میڈیا کا کردار نہایت اہم ہوگا۔ ان کے بقول بھارتی میڈیا پاکستان کے خلاف نفرت پھیلانے میں لگا ہے، جبکہ ایسی صورتحال پاکستان میں نہیں۔ صحافیوں اور میڈیا کو غیر جابندار انداز سے حقیقی مسائل کے حل کی راہ نکالنی ہوگی جب ہی خطے میں صورتحال بہتر ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…