ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

پنجاب حکومت نے ایک اورناکامی اپنے نام لکھ دی ،اہم منصوبہ بیچنے کافیصلہ

datetime 5  دسمبر‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک)پنجاب حکومت نے ایک اورناکامی اپنے نام لکھ دی ،اہم منصوبہ بیچنے کافیصلہ ۔ پنجاب حکومت نے مطلوبہ نتائج نہ ملنے کے باعث قائداعظم سولر پاور منصوبے کی نجکاری کا فیصلہ کرلیا ،قانون میں صوبے کو اپنے حصص فروخت کرنے کی اجازت نہ ہونے کی وجہ سے قوانین میں ترمیم کروائی جائے گی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت نے بہاولپور میں شروع کئے گئے قائداعظم سولرپارک کے نام سے شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے سب سے بڑے منصوبے کو خسارے میں جانے کے باعث نجکاری کی فیصلہ کرلیا ہے۔ذرائع کے مطابق 12 نومبر 2015 کو کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے 31ویں اجلاس میں فیصلہ کیا کہ حکومت اپنا سرمایہ نکال کر منصوبے کی نجکاری کردے۔انرجی ڈپارٹمنٹ کی جانب سے بلائے گئے اجلاس میں کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے علاوہ سیکرٹری انرجی، سیکٹری قانون، چیئرمین پنجاب نجکاری بورڈ نے شرکت کی۔اجلاس میں منصوبے کی نجکاری کے فیصلے کے بعد کابینہ سے منظوری کیلئے سمری وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف کو بھجوا دی گئی ہے۔اس حوالے سے یہ بات بھی اہم ہے کہ موجودہ نجکاری قوانین صوبائی حکومت کو منصوبے میں اپنے حصص فروخت کرنے کی اجازت نہیں دیتے اس لیے پہلے ان قوانین میں ترمیم بھی کروائی جائے گی۔واضح رہے کہ قائداعظم سولر پارک کا سنگ بنیاد گزشتہ سال مئی میں رکھا گیا تھا ، تین مراحل میں مکمل ہونے والے اس منصوبے کیلئے 10 ہزار ایکڑ زمین مختص کی گئی تھی۔چینی کمپنی کے اشتراک سے شروع کیا گیا یہ منصوبہ 27مارچ 2015کو آپریشنل ہوا بعدازاں کمرشل طور پر 15جولائی 2015 سے یہاں پیدا ہونے والی بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہونا شروع ہوئی۔حکومت پنجاب نے دعوی کیا تھا کہ اس پراجیکٹ سے ابتدائی طور پر 100 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی لیکن اس منصوبے سے بجلی کی پیداوار اب تک صرف 18 سے 19 میگاواٹ ہے۔پنجاب حکومت یہ بھی دعوی کرچکی ہے کہ قائداعظم سولر پارک نیپرا کے معیارات سے زیادہ بجلی پیدا کررہا ہے،منصوبے سے ایک ارب 37کروڑ 50 لاکھ روپے کی بجلی فروخت کی گئی جس میں سے تقریبا 78کروڑ 21 لاکھ روپے وصول کیے جاچکے ہیں۔نیپرا نے منصوبے کے ذریعے پیدا ہونے والی بجلی کا ٹیرف 12 روپے فی یونٹ منظور کیا تھا تاہم اس کی پیداواری لاگت دوگنی ہو کر 24سے 25روپے فی یونٹ تک جاپہنچی ہے۔سولر پراجیکٹ کے پہلے مرحلے میں پنجاب حکومت اب تک پونے تین ارب کی سرمایہ کاری کرچکی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…