ٹوکیو(نیوز ڈیسک)جاپان کے موسمیاتی مصنوعی سیارچے “ایبوکی” نے چین،پاکستان ‘ ہندوستان اور امریکہ کے صنعتی مراکز میں ضرررساں گیس “میتھین” کی بڑی مقدار کی موجودگی کا پتہ چلایا ہے۔ تحقیق کے نتائج پیرس میں ہونے والی آب وہوا کی تبدیلی سے متعلق اقوام متحدہ کی کانفرنس COP-21 سے چند روز پہلے سامنے لائے گئے ہیں۔جاپان کی ماحولیات کے تحفظ سے متعلق وزارت اور ماحولیات بارے تحقیق کے انسٹیٹیوٹ نے مصنوعی سیارچے کی جانب سے اگست 2009 سے دسمبر 2012 تک جمع کیے گئے کوائف کا تجزیہ کیا ہے۔ اس میں انہوں نے بڑی بڑی دلدلوں اور جنگلات کی آگ سے پیدا ہونے میتھین گیس کو شامل نہیں کیا ہے۔نتائج کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کے شہروں چینڈو اور چن سن میں جہاں دو کروڑ بیس لاکھ افراد بستے ہیں، میتھین گیس کی سب سے زیادہ مقدار پائی گئی ہے۔ دوسرے مقام پر پاکستان کا شہر لاہور ہے۔ اس کے بعد ہندوستان کا شہر کلکتہ اور بنگلہ دیش کا دارالحکومت ڈھاکہ آتا ہے۔ ماحولیاتی حوالے سے امریکہ کے بدترین شہر لاس اینجلس، سان فرانسسکو اور نیویارک ہیں۔ روس کا واحد شہر جو اس فہرست میں شامل ہے وہ سرگوت ہے۔میتھین ماحولیات کے حوالے سے انتہائی ضرررساں گیسوں میں شمار کی جاتی ہے۔ وہ فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کی نسبت، جس کو پھیلائے جانے کی سارے ماہرین ماحولیات کی جانب سے مخالفت ہوتی ہے، 25 گنا زیادہ پائی جا رہی ہے
پاکستان کا شہر دنیا میں دوسرے نمبر پر آگیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
گریٹ گیم
-
ٹرمپ ایران سے معاہدے کیلئے پاکستان آنے کے خواہش مند ہیں مگر انہوں نے ایک شرط بھی رکھی ہے: حامد میر...
-
شین وارن کی موت کے پیچھے کس کا ہاتھ؟ بیٹے نے 4 سال بعد نام بتا دیا
-
لوڈ شیڈنگ کب ختم ہوگی؟ وزیر توانائی نے بتا دیا
-
ایران کا شاہ رخ خان کے مشہور ڈائیلاگ کے ذریعے ٹرمپ کو دلچسپ جواب
-
ایران کے دنیا بھر میں منجمد اثاثوں کی مالیت کیا ہے؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں
-
اسلحہ لائسنس بنوانے والوں کی بڑی مشکل حل کر دی گئی
-
تعلیمی اداروں میں موسم گرما اور موسم سرما کی چھٹیوں میں کمی! طلبا کے لئے بڑی خبر آگئی
-
توانائی کے حوالے سے پاکستان کے لیے بڑی خوشخبری
-
اسلام آباد،دو گروپس میں مسلح تصادم، دو بھائی جاں بحق
-
پیٹرول کوٹہ ؛بڑی پیشرفت سامنے آگئی
-
اقرار الحسن نے اے آر وائی سے استعفیٰ دے دیا
-
گرمی کے بعدبارشوں کی پیشگوئی، مختلف اضلاع میں الرٹ جاری
-
سرکاری ملازمین کے لیے ایک اور ’’ہاؤسنگ کالونی‘‘ منظور، کون ہوگا اہل؟



















































