اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

پھانسی کی سزاوں پر پاکستان کا دوہرا معیار

datetime 24  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) انسانی حقوق کی سرگرم کارکن اور معروف وکیل عاصمہ جہانگیر نے بنگلہ دیش کے اپوزیشن رہنماو¿ں کی پھانسی پر پاکستانی حکومت کی تنقید کو دوہرا معیار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ’انتہائی غیر مناسب‘ رویہ ہے۔وہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کے حالیہ بیان پر اپنے خیالات کا اظہار کررہی تھی، جس میں انھوں نے بنگلہ دیش میں ہونے والی پھانسیوں پر اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا۔عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ ’ہم اس بات کی ا±مید کرتے ہیں کہ حکومت برابر کا رویہ اختیار کرے گی‘ ان لوگوں کے لیے بھی جن کو بین الااقوامی مخالفت کے باوجود پاکستان میں پھانسی دی جارہی ہے۔’ان کا یہ مو¿قف تھا کہ بنگلہ دیش میں ہونے والی پھانسیوں کی وجہ سے وہاں مزید تقسیم پیدا ہوگی اور اس سے مستقبل میں سیاسی بے چینی میں اضافہ ہوگا۔عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ ملزمان کے ٹرائل کو مانیٹر کرنے والے انسانی حقوق کے تمام رضا کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ملزمان کو صفائی کا موقع فراہم نہیں کیا گیا۔انھوں نے کہا کہ ’ہم نے اس کی مذمت کی ہے اور اس حوالے سے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے فوری رد عمل کی درخواست کی ہے۔‘لیکن اس کے ساتھ ہی عاصمہ جہانگیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ بنگلہ دیش میں ہونے والی پھانسیوں پر خدشات کا اظہار کرنے سے پہلے حکمران پاکستان میں ہونے والی سزاو¿ں اور سعودی عرب میں پاکستانیوں کو دی جانے والی سزاو¿ں کے حوالے سے بات کریں۔انھوں نے سوال اٹھایا کہ ’کیا یہ 2 بنگلہ دیشی ان لوگوں سے زیادہ اہم ہیں جو پاکستان میں رہتے ہیں اور اس کا جواب اگر ہاں میں ہے تو حکومت جواب دے کہ کیوں اور ا?خر کب تک۔‘عاصمہ جہانگیر نے تسلیم کیا کہ سزائے موت دیئے جانے والے دونوں افراد کو اپنی صفائی میں کچھ کہنے کا موقع فراہم نہیں کیا گیا، لیکن ایسے ہی ٹرائل کا سامنا پاکستان کی فوجی عدالتوں میں ا±ن افراد کو بھی کرنا پڑتا ہے جن پر دہشتگردی کے الزامات ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’ہم سزائے موت اور غیر منصفانہ ٹرائل کے خلاف ہیں چاہے وہ پاکستان میں یا بنگلہ دیش میں ہو۔‘عاصمہ جہانگیر کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر پاکستانی حکومت سزائے موت اور ٹرائل کے غیر منصفانہ طریقہ کار کے خلاف ہے تو اسے فوجی عدالتوں کے ٹرائل کی جانب بھی دیکھنا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…