جمعہ‬‮ ، 16 اکتوبر‬‮ 2026 

عالمی قرضوں کا بوجھ بڑھنے لگا، 2030 تک قرض مجموعی عالمی پیداوار سے تجاوز کرنے کا خدشہ

datetime 16  اکتوبر‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی)عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں حکومتی قرضوں کی لاگت میں اضافے سے مالی دباؤ بڑھ رہا ہے،

جبکہ عالمی عوامی قرضہ 2030 تک دنیا کی مجموعی معاشی پیداوار کے 100 فیصد سے تجاوز کرسکتا ہے۔ ادارے نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ بجٹ خسارے پر قابو پانے کے لیے قابلِ اعتماد مالیاتی اقدامات کریں۔آئی ایم ایف کے مطابق جی سیون ممالک میں 10 سالہ سرکاری بانڈز پر اوسط شرح منافع فروری سے ستمبر کے دوران ایک فیصد سے زیادہ بڑھ گئی، جو تقریباً دو دہائیوں کی بلند ترین سطح ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، مسلسل مہنگائی، سرمایہ کاری کی بڑھتی ہوئی طلب اور مصنوعی ذہانت سے وابستہ معاشی ترقی کی توقعات نے قرض لینے کی لاگت میں اضافے میں کردار ادا کیا ہے۔فنڈ کے تخمینے کے مطابق حکومتی قرضوں پر مؤثر اوسط شرح سود 2021 میں 2.3 فیصد تھی، جو 2031 تک بڑھ کر 3.7 فیصد ہوسکتی ہے۔ امریکا میں قرضوں پر سود کی ادائیگیاں وبا سے پہلے مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 2.8 فیصد کے برابر تھیں، جن کے 2031 تک بڑھ کر 5.7 فیصد ہونے کا امکان ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کم آمدنی والے ممالک کو قرضوں کی ادائیگی کے حوالے سے زیادہ مشکلات کا سامنا ہے، جہاں حکومتوں کی ٹیکس آمدن کا 15 فیصد سے زیادہ حصہ پہلے ہی قرضوں پر سود ادا کرنے میں خرچ ہورہا ہے۔ اس صورت حال کے باعث تعلیم، صحت، ترقیاتی منصوبوں اور دیگر عوامی خدمات کے لیے دستیاب وسائل محدود ہورہے ہیں، جبکہ معاشی بحران کے دوران عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی حکومتی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے۔آئی ایم ایف کے مطابق عالمی بنیادی بجٹ خسارہ، جس میں قرضوں پر سود کی ادائیگیاں شامل نہیں ہوتیں، 2026 میں مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 3.3 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔ قرضوں اور قومی پیداوار کے تناسب کو مستحکم رکھنے کے لیے اس خسارے کو کم کرکے تقریباً 2.6 فیصد تک لانا ضروری ہوگا۔ادارے نے خبردار کیا کہ قرضوں کی مختصر مدت اور پرانے قرضوں کی جلد تجدید کے باعث شرح سود میں اضافہ حکومتی مالیاتی اخراجات پر تیزی سے اثر انداز ہورہا ہے۔ آئی ایم ایف نے ترقی یافتہ معیشتوں کو قابلِ اعتماد مالیاتی منصوبے اپنانے اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کو قرضوں کے بہتر انتظام پر توجہ دینے کی ہدایت کی ہے۔آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ مالیاتی اصلاحات میں تاخیر کی صورت میں مستقبل میں بجٹ خسارے اور قرضوں پر قابو پانے کے لیے زیادہ سخت اقدامات کرنا پڑسکتے ہیں۔



کالم



 عمران خان بھٹو


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…