اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اسلام آباد میں طالبہ لائبہ اعجاز کی موت کے معاملے کی تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق ذرائع کا دعویٰ ہے کہ گرفتار ملزم نعمان نے دورانِ تفتیش طالبہ کے ساتھ فراڈ کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ پولیس مزید شواہد اکٹھے کرنے کے لیے مختلف پہلوؤں سے کیس کی تفتیش کر رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق نعمان کا لائبہ اعجاز سے رابطہ رواں سال فروری میں اس کی دوست عائزہ کے ذریعے ہوا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ لائبہ اور عائزہ نے مل کر آن لائن ٹک شاپ کا کاروبار شروع کیا، تاہم یہ کام کامیاب نہ ہوسکا۔ عائزہ فاطمہ کا ایک بھائی امریکا میں مقیم ہے اور لائبہ نے مبینہ طور پر اس سے امریکی ویزا کے حصول میں مدد کی بات بھی کی تھی۔
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق ملزم نعمان نے مبینہ طور پر ایک دوسرے موبائل نمبر سے عائزہ بن کر لائبہ سے رابطہ کیا۔ اس کے علاوہ عائزہ کے بھائی اظہر کے نام سے جعلی جی میل اکاؤنٹ بنانے کا بھی الزام ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ملزم نے ان جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے طالبہ سے رابطہ برقرار رکھا اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے اس کے اسٹوڈنٹ ویزا سے متعلق دستاویزات تیار کیں۔
رپورٹ کے مطابق لائبہ اور نعمان کے درمیان ہونے والی گفتگو کا کچھ حصہ حاصل کر لیا گیا ہے، جبکہ مزید شواہد کی جانچ کے لیے ملزم کا موبائل فون فرانزک تجزیے کی غرض سے بھجوا دیا گیا ہے۔
پولیس نے تفتیش کو آگے بڑھانے کے لیے لائبہ اعجاز کے والد کی مدعیت میں درج مقدمے کی سیل شدہ ایف آئی آر بھی کھول دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 322 اور 34 کے تحت درج کیا گیا تھا۔ پولیس نے طالبہ کے والد کا بیان بھی ریکارڈ کرلیا ہے۔
والد نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ ان کی بیٹی کی ملزم نعمان سے اسلام آباد کے بلیو ایریا میں ملاقات ہوئی تھی۔ ان کے مطابق ملزم نے خود کو ایک اعلیٰ سرکاری افسر ظاہر کیا اور لائبہ کو اسٹڈی ویزے پر امریکا بھجوانے کی یقین دہانی کرائی۔
بیان کے مطابق امریکا بھیجنے کے لیے مجموعی طور پر 93 لاکھ روپے طے کیے گئے تھے۔ والد کا دعویٰ ہے کہ 21 لاکھ روپے جی 10 کے علاقے میں نقد ادا کیے گئے، جبکہ 29 لاکھ روپے لائبہ کے بینک اکاؤنٹ سے ملزم کو منتقل کیے گئے۔
لائبہ کے والد نے مزید الزام لگایا کہ ملزم نے بینک اسٹیٹمنٹ کے لیے طالبہ کے اکاؤنٹ میں 20 ہزار امریکی ڈالر منتقل ہونے سے متعلق جعلی رسیدیں بھی فراہم کیں۔ ان کے مطابق عائزہ نامی لڑکی بھی مبینہ طور پر اس معاملے میں شامل تھی اور وہ لائبہ سے رابطہ کرکے رقم کا مطالبہ کرتی رہی۔
والد کا کہنا ہے کہ ایک مرحلے پر ملزم نے ان کے فون کالز کا جواب دینا بھی بند کر دیا، جس کے بعد لائبہ پانچ سے چھ روز تک شدید ذہنی پریشانی میں مبتلا رہی۔
پولیس کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔ ملزم کے خلاف عائد الزامات، مبینہ جعلی دستاویزات اور مالی لین دین سے متعلق دعوؤں کی تصدیق تفتیش اور فرانزک شواہد کی روشنی میں کی جائے گی۔



















































